"ماں نے آنکھیں کھول دیں، گھر میں اُجالا ہو گیا"

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

 "ماں نے آنکھیں کھول دیں، گھر میں اُجالا ہو گیا"
چاند جیسے اِک دعا کا پھر نزولا ہو گیا

رات بھر دیوار و در سنتے رہے خاموشیاں
صبح اُس کے مسکرانے سے سویرا ہو گیا

خشک ہونٹوں پر تبسم کی نمی اُتری تو پھر
صحن کا بوسیدہ پودا بھی ہرا بھرا ہو گیا

اپنی محنت کی کمائی سے جلایا تھا چراغ
اِک ذرا سی روشنی میں دل بھی یہ بڑ ا ہو گیا

باپ کے چہرے کی تھکن آخر کہاں جاتی رہی
بیٹیوں کو ہنستے دیکھا تو وہ ہلکا ہو گیا

عمر بھر جس کو چھپاتے پھر رہے تھے آنسوؤں میں
اِک محبت کے ملنے سے وہ قصہ ہو گیا

اب و شمہ اس شہر میں تنہا نہیں لگتا مجھے
تیری یادوں کا مرے دل میں بسیرا ہو گیا

Rate it:
Views: 37
10 May, 2026
More Love / Romantic Poetry