دل کے ملبے سے ہم یادیں اٹھائیں کیسے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکیستان

 دل کے ملبے سے ہم یادیں اٹھائیں کیسے
ٹوٹے خوابوں کو نئی شکل دلائیں کیسے

عمر گزری ہے فقط خود کو مناتے ہوئے
ہم کسی اور کی خاطر مسکرائیں کیسے

زخم اتنے ہیں کہ چھپتے ہی نہیں آنکھوں سے
حالِ دل شہر کے لوگوں کو بتائیں کیسے

وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نبھاؤں گا عمر بھر
اب اسی شخص پہ ہم ناز اٹھائیں کیسے

خامشی اوڑھ کے جینا بھی تو آساں نہ ہوا
شورِ تنہائی کو سینے سے دبائیں کیسے

اپنے ہی سائے نے آخر ہمیں پہچانا نہیں
آئینہ بن کے خود وشمہ رخ دکھائیں کیسے

Rate it:
Views: 92
09 Feb, 2026
More Love / Romantic Poetry