"مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی"

Poet: وشمہ خان وشمہ۔ By: وشمہ خان وشمہ۔, پاکستان

"مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی"
سارے جگ سے اس کی سادہ روشنی اچھی لگی

سرد راتوں میں دعا بن کر مرے سر پر رہی
ماں کے ہاتھوں کی وہ نرم آگہی اچھی لگی

بھوک کے عالم میں بھی اس نے ہنسا کر رکھ دیا
اس فقیرانہ محبت کی خوشی اچھی لگی

گھر کے ٹوٹے در، پرانی چارپائی، نیم شب
ماں کے پہلو میں مگر ہر بےکسی اچھی لگی

شہر بھر نے زر کی چمکوں کو عبادت کہہ دیا
مجھ کو ماں کے آنسوؤں کی چاندنی اچھی لگی

جب کبھی دنیا نے مجھ سے میری پہچان چھینی
ماں نے پکارا تو اپنی زندگی اچھی لگی

اے وشمہ دنیا کی رنگینی میں دل لگتا نہیں
ماں کی جھولی، ماں کی میلی گودنی اچھی لگی

Rate it:
Views: 42
10 May, 2026
More Love / Romantic Poetry