چڑھ گیا قرض تھکن رات کو گھر مانگتی ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiچڑھ گیا قرض تھکن رات کو گھر مانگتی ہے
نوکری ایسی لگی شام و سحر مانگتی ہے
آج کل دوست بھی نہیں ملتے یہاں پر مخلص
آج کل دوستی بھی جان و جگر مانگتی ہے
زندگی بھر رہوں گا یار کنوارہ ہی میں
اس لیے شادی نہیں ہوئی ہنر مانگتی ہے
روز کرتا ہوں مسافت نہیں مٹتی ہے بھوک
نوکری روز نیا تازہ سفر مانگتی ہے
اتنی دولت کہاں سے لاؤں تجارت کے لیے
اب تجارت بھی بہت پیسہ ادھر مانگتی ہے
بھوک بھی باز نہیں آتی بنا روٹی کے
کہتا ہوں پاس نہیں آٹا مگر مانگتی ہے
میرے حالات پہ روتا ہے زمانہ شہزاد
زندگی بھی ہے خفا موت اگر مانگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






