چڑھ گیا قرض تھکن رات کو گھر مانگتی ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiچڑھ گیا قرض تھکن رات کو گھر مانگتی ہے
نوکری ایسی لگی شام و سحر مانگتی ہے
آج کل دوست بھی نہیں ملتے یہاں پر مخلص
آج کل دوستی بھی جان و جگر مانگتی ہے
زندگی بھر رہوں گا یار کنوارہ ہی میں
اس لیے شادی نہیں ہوئی ہنر مانگتی ہے
روز کرتا ہوں مسافت نہیں مٹتی ہے بھوک
نوکری روز نیا تازہ سفر مانگتی ہے
اتنی دولت کہاں سے لاؤں تجارت کے لیے
اب تجارت بھی بہت پیسہ ادھر مانگتی ہے
بھوک بھی باز نہیں آتی بنا روٹی کے
کہتا ہوں پاس نہیں آٹا مگر مانگتی ہے
میرے حالات پہ روتا ہے زمانہ شہزاد
زندگی بھی ہے خفا موت اگر مانگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






