گرہ لگانا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیااب چھوڑ بھی دو آپ یہ نفرت کی سواری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
دنیا سے جفاؤں کی یہ دیوار گرا کر
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
ہم کو تو بغاوت کے بہانے نہیں آتے
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کچھ آپ بھی پڑھ لو نہ محبت کی کتابیں
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
یہ فرض ہے اب آپ بھی نفرت کو بھلا دو
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کھاتے ہیں سبھی مل کے محبت کی سپاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کہنے کو بنا پھرتا ہے الفت کا پجاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
ہو جائے گی اب دور جو نفرت ہے تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کچھ لوگ محبت میں بھی کرتے ہیں غداری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
بجھ جائے گی اب آگ جو سلگی ہے تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
سینچی ہے سدا خون سے یہ راہ تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






