ﺳﻨﻮ ! ﺁﭖ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻧﺎ
Poet: By: Rania Ch, Lahoreﺳﻨﻮ
ﺁﭖ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻧﺎ
ﮐﮧ
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ
ﺗﻮ
ﺳﻨﻮ
ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﻧﺎ
ﺗﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






