Bas Itna Bata Do..

Poet: Abrar Gulshan By: Abrar Gulshan, Kotli Azad Kashmir

Mian Dekhti Rahi
Apni Khirki Se Pura Chand
Chandani Ko Sath Liye
Jese Jahank Raha Ho
Mere Kamre Main,
Main Gate Se Baher
Gali Se Guzrti Garian
Har Aik Ko Dekhti
Sochti Yeh Ruke Gi
Ab Horn Ki Aawaz Aaye Gi
Aane Do Unhain
Main Nehin Bolo Gi Khud Se Kehti........
Ap Nehi Lekin
Thandi Hawa Ke Jhunke
Mujh Ko Chhoote Huwe
Kamre Main Hote Rehe Dakhil.....
Dheere Dheere Gariyan Kam Hui
Mere Intazar Ki Shama Bhi Madham Hui
Chandani Bhi Kamra Chhor Ke Chali Gai
Chand Bhi Agle Safar Pe Chal Diya
Phir…….
Phir Subo Ka Tara Jalwagar Huwa
Deep Meri Chahat Ke Bujhne Lage
Aur Main Rote Rote
Apne Bistar Se
Armanoo Ki Kaliyan Chunti Rahi
Ik Ik Lamhain Main
Hazar Motain Dekhin
Mere Jazboo Ne
Latak Rahi Thi Intazar Ki Sooli Pe
Meri Khuwahishoo Ki Barhana Lashain
Kitne Khayaloo Ki Aahatain
Darati Rahi Raat Bhar
Khairiyat To Hai
Phon Bhi Nehain Kia
Yaaaa……
Ya Kisi Aur Zulf-E-Haseena------
Is Aahat Pe To Kanp Uth'ti
Ab Aaye Ho...
To Kya Kahoo...
Kya Puchhoo …
Kuch Nehi……
"Bas Itna Bta Do"(Just Tel)
Ke Aap
Kal Raat Kahan They…?
 

Rate it:
Views: 1013
26 Mar, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL