کہاں تھا اس کے قابل میں
Poet: Fahim ur Rehman (Azar) By: Fahim Ur Rehman Azar, Samundri, Faisalabadکہاں تھا اس کے قابل میں،کہاں میری یہ قسمت تھی
اسی کی یہ عنایت تھی،اسے مجھ سے محبت تھی
کہاں گمنام بنجاراکہاں محلوں کی رانی وہ
کہاں باسی میں گاوں کا کہاں سلجھی سہانی وہ
مجھے جس نے ڈبویا ھے انھی لہروں کا پانی وہ
جانے کیا تھا مجھ میں جو بنی میری دیوانی وہ
پھر بھی حقیقت تھی اسے میری ضرورت تھی
کہاں تھا اس کے قابل میں۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی اک روگ بن کر وہ مجھے دن بھر رلاتی تھی
کبھی اک خواب بن کر وہ شب بھر مسکراتی تھی
کبھی جو روٹھ جاتا میں مجھے پھر وہ مناتی تھی
اکثر بھیگی پلکوں سے مجھے وہ یہ بتاتی تھی
اسے میرا ہی بننا تھا، اسے مجھہ سے ہی راحت تھی
کہاں تھا اس کے قابل میں کہاں میری یہ قسمت تھی
محبت میں وفا کم ہے یہی دستور دیکھا ہے
چاند کو جب بھی دیکھا ہے بہت ہی دور دیکھا ہے
مانا وہ حسیں ہے پر اسے مغرور دیکھا ہے
خفا رہتا ہے مجھ سے وہ میں نے حضور دیکھا ہے
یہی آزر گلا تھا بس یہی اس سے شکا یت تھی
کہاں تھا اس کے قابل میں کہاں میری یہ قسمت تھی
اسی کی یہ عنایت تھی، اسے مجھ سے محبت تھی
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






