Do Hanso Ka Jora
Poet: Aariba By: Sayyeda Aariba, LaturRozana Vo Samander Kinare Milte The
Sapno Mai Khoye Rait Pai Chalte Rahte The
Hanso Ka Ek Joda Roz Kinare Baitha Karta Tha
Ye Dono Unn Se Bate'n Karte The
Ek Din Hansani Udass Akile Baithe The
Jaise Uske Sari Duniya He Rothe The
Daikh Ke Hansani Ko Aise Vo Dukhe Hogye
Usne Pucha Ek Dam Se Kiyo Chup Hogye
Vo Bole Daikho Hans Use Chor Kar Chala Gya
Kaise Ek Pal Mai Muhabbat Sari Bhula Gya
Vo Bola Parindo Ka Kiya Unnhe Samjh Nahe Hote
Unka Bhrosa Kiya Payar Karne Ke Bojh Nahe Hote
Phir Vo Roz Yu'nhe Milte Rahe
Hans O Hansni Ke Bate Karte Rahe
Hansni Roz Hans Ka Intezar Karte Rahe
Uske Dukh Ke Sath Payar Karte Rahe
Ek Din Hans Khushu'n Ka Payam Bankar Aya
Hansani K Liye Massrto Ke Sogat Lekar Aya
Uss Din Vo Uska Intezar Karte Rahe
Hanso Ke Jore Ko Daikhte Rahe
Use To Na Ana Tha Vo Nahe Aya
Vo Roz Uska Intezar Karte Rahe
Vo Roz Hanso Ke Jode Ko Daikha Karte Hai
Ghar Lot Te Vaqt Dukh Se Socha Karte Hai
Samjh Kis Me Nahe Insan Ya Parindo Mai
Hans O Hansni Loot Gye Apne Gharondo Mai
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






