ساقیا نظر کرم کر پیمانے میں

Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usa

ساقیا نظر کرم کر پیمانے میں
جو کچھ بچا کچھا ہے ڈال دے مہ خانے میں

نہ کر بے رخی کچھ رکھ عزت کا خیال
کیسے جیئے گئے بن پئیے تیرے زمانے میں

سانسوں کی کچھ ڈوریاں بچی ہیں اب تو
وفا کی جرم ہوا لیے لیے انہیں ہرجانے میں

خیالوں کی بجلی چمکی دل دھڑک اٹھا
نا جانے کیوں دیر لگی اس کے آنے میں

ہاں ہم بھی سن رہے اس کا جواب
کیا خوب سچائی ہے اس کے بہانے میں

زخمی سینہ خون جگر اور پوچھ کیا بتاؤں
ساز دل کیا سناؤں درد ہے ترانے میں

کرنا معاف بے خودی تھی جو کچھ کہہ دیا میں نے
بہت سے زخم چھپے ہیں اس افسانے میں

مدت ہوئی کچھ گلستاں سے واسطہ نہیں رہا
ہاتھ ہوئے زخم زرا لگی دیر گلوں کے لانے میں

تجھے کیسے بھولوں ممکن نہیں ہے دوست
نہ ورثے میں ملی ہے نہ بات ہے گھرانے میں

بولو کیوں چپ ہوئے سناؤ کیا سنا ہے
جو کرنا تھا کر دیا اب کیا رکھا ہے گھبرانے میں

کیوں ڈھائی ہے قیامت قلزم میخانے میں اس قدر
ابھی تو دیر ہے کافی ساقی کے جانے میں

Rate it:
Views: 592
22 Aug, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL