Gungunatay Hue Anchal Ki Hawa Deh Mujh Ko
Poet: .............. By: Engir. Hassni, karachiGungunatay Hue Anchal Ki Hawa Deh Mujh Ko
Ungliyaan phair Ke BAloon Main Sulla Deh Mujh Ko
Jis Tarah Faltu Guldaan Paray Rehtay Hain
Apne Ghar Ke Kisi Konay Se Lagga Deh Mujh Ko
Yaad Kar Ke Mujhe Takleef He Hoti Hogii
Aik Kissa Hoon Purana Sa Bhulla Deh Mujh Ko
Doobtay Doobtay Awaaz Teri Sunn Jaoon
Akhiri Baar Tu Sahil Se Sadah Deh Mujh Ko
Main Tere Hijr Main Chup Chaap Na Marr Jaoon Kahin
Main Hoon Saktay Main Kabhii Aa Ke Rulla Deh Mujh Ko
Dekh Main Hogaya Badnaam Kitaboon Ki Tarah
Merii Tasheer Na Kar Ab Tu Jalla Deh Mujh Ko
Rhootna Tera Meri Jaan Liye Jata Hai
Aesay Naraaz Na Ho Hans Ke Dekha Deh Mujh Ko
Aur Kuch Bhi Nahi Manga Mere Malik Tujh Se
Us Ki Galiyoon Main Parii Khaak Banaa Deh Mujh Ko
Log Kehtay Hain Ke Yeh Ishq Niggal Jata Hai
Main Bhi Is Ishq Main Aya Hoon,Dua Deh Mujhe Ko
Yahi Okaat Hai Meri Tere Jeevan Mein Ke Main
Koi Kamzoor Sa Lamha Hoon, Bhulla Deh Mujh Ko
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






