Hansi Mein Uraa Gaye

Poet: Bilal By: Muhammad Bilal Shakir, Islamabad

Jo Uter Ker Zeena-E-Sham Se'teri Chashm-E-Khush Mein Sama Gaye
Wohi Jalty Bojhty Se Mehr-O-Ma Meray Baam-0-Dar Ko Saja Gaye

Ye Ajeeb Khel Hai Ishq Ka'mein Ne Aap Dekha Ye Mojza
WO Jo Lafz Mery Guma Mein Thy'wo Teri Zuba Pe Aa Gaye

Ye Charagh-E-Jan Kabhi Jis Ki Loo Na Kisi Hava Se Nagoon Houi
Teri Bewafai K Wasvasy Use Chupky Chupky bujha Gaye

WO Tha Chand Sham-E-Visal Ka'ke Tha Roop Teray Jamal Ka
Meri Rooh Se Meri Aankh Tak Kisi Roshne Mein Naha Gaye

Ye Jo Bandgan-E-Nyaz Hein'ye Tamam Hein Wohi Lashkari
Jinhen Zindagi Ne Panah Na Di'to Tery Hazoor Mein Aa Gay

Teri Berukhi Ke Dyar Mein'mein Hawa Ke Sath Hawa Howa
Teray Aine Ki Talash Mein Meray Khowab Chehra Gawa Gaye

Tery Wasvason K Fishar Mein'tera Sharar-E-Rang Ujer Gaya
Meri Kahishon Ke Ghubar Mein'mery Maah-0-Saal Wafa Gaye

Meri Umer Se Na Simat Saky'mery Dil Mein Itny Sawal Thy
Tery Pass Jitnay Jawab Thay Teri Ik Nigah Mein Aa Gaye

WO Jo Geet Tum Ne Suna Nahi'meri Umer Bher Ka Ryaz Tha
Meray Dard Ki Thi Wo Dastan'jisay Tum Hansi Mein Ura Gaye

Rate it:
Views: 4217
09 Nov, 2007
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL