Meri Qasam
Poet: Bilal By: Muhammad Bilal Shakir, IslamabadBohat Dino Ki Baat Thi,
Shabab Per Bahar Thi,
Fiza Bhi Khushgawar Thi,
Na Jaane Kioun Machal Para,
Main Apne Ghar Se Chal Para,
Kisi Ne Mujh Ko Rok Ker,
Bari Aada Se Tok Ker,
Kaha Ke Laut Ayyee,
Meri Qasam Na Jayyee,
Meri Qasam Na Jayyee,
Magar Mujhe Khabar Na Thi,
Mahaul Per Nazar Na Thi,
Na Janey Kioun Machal Para,
Main Apney Ghar Se Chal Para,
Phir Shehar Se Main Aa Gaya,
Khayal Tha Ke Paa Gaya,
Usey Jo Mujh Se Durr Thi,
Magar Meri Zaroor Thi,
Phir Ik Haseen Shaam Ko,
Main Chal Para Salam Ko,
Gali Ka Rang Dekh Ker,
Naye Tarang Dekh Ker,
Mujhe Bari Khushi Hui,
Main Kuch Isi Khushi Main Tha,
Kisi Ne Jhank Ker Kaha,
Paraye Ghar Se Jayyee,
Meri Qasam Na Ayyee,
Wohi Haseen Shaam Hai,
Bahar Jis Ka Naam Hai,
Chala Hoon Ghar Ko Chor Ker,
Na Janey Jaoon Ga Kidhar,
Koi Nahin Jo Rok Ker,
Koi Nahin Jo Tok Ker,
Kahay Ke Laut Ayyee,
Meri Qasam Na Jayyee,
Meri Qasam Na Jayyee
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






