Hum Kahan Ke Sachay Thay Lyrics
Poet: Yashal Shahid By: Asher, LahoreHum Kahan Kay Sachay Thay
Dard Pi Kay Mertay Thay
Zehar Pi Kar Jeetay Thay
Zindagi Kay Dhokay Main
Har Kisi Say Lertay Thay
Kahay Mill Kay Bichray Thay
Ansown Main Dobay Thay
Shikwa Bhi Kya Kerte
Hum Kahan Kay Sachay Thay
Akheon Nay Kyun Akheon Say
Jora Hai Yun Deewano Say
Akheon Nay Teri Akheon Say
Bandha Hai Kyun Dur Askhon Say
Teray Bin, Teraay Bin, Teray Bin
Teray Bin, Haye, Teraay Bin, Teray Bin
Dobia Way Dil Dubia Way
Sochan Day Wich Dubia Way
Gehray Hain Dukh Dariya Yeah
Ponchon Kesay Sahil Pay
Teray Bin, Teraay Bin
Akheon Nay Kyun Akheon Say
Jora Hai Yun Deewano Say
Akheon Nay Teri Akheon Say
Bandha Hai Kyun Dur Askhon Say
Teray Bin, Teraay Bin, Teray Bin
Teray Bin, Haye, Teraay Bin, Teray Bin
Aik Pal Main Bikhray Thay
Jesay Sukhay Patay
Dor Dil Say Ho Rahay Thay
Kho Rahay Thay
Teray Bin, Teraay Bin, Teray Bin
Teray Bin, Haye, Teraay Bin, Teray Bin
Teray Bin, Teraay Bin, Teray Bin
Teray Bin, Haye, Teraay Bin, Teray Bin
Shikwa Bhi Kya Kerte
Hum Kahan Kay Sachay Thay
In Urdu
کاہے مل کے بچھڑے تھے؟
آنسوؤں میں ڈوبے تھے
شکوہ بھی، کیا کرتے
ہم کہاں کے سچے تھے؟
اکھیوں نے، کیوں اکھیوں سے
جوڑا ہے یوں دیوانوں سے
اکھیوں نے، تیری اکھیوں سے
باندھا ہے کیوں یوں عاشقوں سے
تیرے بن، تیرے بن
تیرے بن، تیرے بن
تیرے بن، ہائے، تیرے بن
تیرے بن، تیرے بن
ڈبیا وے، دل ڈبیا وے
سوچاں دے وچ ڈبیا وے
گہرے ہیں دکھ دریا یہ
پہنچوں کیسے ساحل پہ
تیرے بن، تیرے بن
اکھیوں نے، کیوں اکھیوں سے
جوڑا ہے یوں دیوانوں سے
اکھیوں نے، تیری اکھیوں سے
باندھا ہے کیوں تو نے عاشقوں سے
تیرے بن، تیرے بن
تیرے بن، تیرے بن
ایک پل میں بکھرے تھے
جیسے سوکھے پتّے تھے
دور تم سے ہو رہے تھے
ہو رہے تھے
ایک پل میں بکھرے تھے
جیسے سوکھے پتّے تھے
دور دل سے ہو رہے تھے
ہو رہے تھے
تیرے بن-تیرے بن
(تیرے بن) تیرے بن (تیرے بن)
ہو، تیرے بن-تیرے بن-تیرے بن (تیرے بن)
ہائے (تیرے بن)، تیرے بن
(تیرے بن) تیرے بن
شکوہ بھی، کیا کرتے
ہم کہاں کے سچے تھے؟
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






