Inteha e Ishq Drama Song Lyrics
Poet: Faraz Akbar By: OST Lyrics, SargodhaChan Ishqa Tere Mer Jan Saien
Te Jiyondiya Nu Maar Makawe Toun
Buk Buk Piwe Khoon Jigar Da
Te Maas Dilan Da Khawien Toun
Chahat Tu Meri Pehli, Pehla Hai Pyar Mera
Tujh Se Abaad Jaise, Dil Ka Qarar Mera
Her Paal Rahay Sath Tera
Hathon Mein Ho Hath Tera
Tu Ashiqi Meri Kab Se
Meri Iltija Hai Yehi Rab Se
Tu Hi Milay Mujhay Har Jagha
Mere Khuda Mere Khuda
Rubaru Mein Rahon Tere Yehi Hai Dua
Meri Ankhon Mein Rahien Tere Sapne Sada
Meri Ankhon Mein RahienTere Sapne Sada
Rubaru Mein Rahon Tere Yehi Hai Dua
Mein Fakat Zaat Hoon Har Zamana Hai Tu
Ibtida Bhi Meri, Inteha Bhai Hai Tu
Meri Umeed Ka, Har Sahara Hai Tu
Mere Gham Ke Bhanwar Ka Kinara Hai Tu
Teri Hasi Teri Khushi Mere Lie Janat Yehi
Rubaru Mein Rahon Tere Yehi Hai Dua
Meri Ankhon Mein RahienTere Sapne Sada
Meri Ankhon Mein Rahien Tere Sapne Sada
Rubaru Mein Rahon Tere Yehi Hai Dua
Rabaru Ishq Hai Ishq Hai
Ishq Ishq Hai
Ishq Ishq Hai Ishq
Tu Mera Chain Hai, Meri Neand Hai, Meri Chahat Hai
Mere Jene Ki Umeed Hai, Meri Rahat Hai
Na Milay Apna To Qismat Ko Nhe Rote Hain
Chand Sooraj Bhi kabhi Aik Nhe Hote Hain
Rubaru Mein Rahon Tere Yehi Hai Dua
In Urdu
چن عشقاں تیرے مر جان سائیں
تے جوندیاں نوں مار مکاویں توں
بک بک پیویں خون جگر دا
تے ماس دلاں دا کھاویں توں
چاہت تو میری پہلی، پہلا ہے پیار میرا
تجھ سے آباد جیسے، دل کا قرار میرا
ہر پل رہے ساتھ تیرا، ہاتھوں میں ہو ہاتھ تیرا
تو عاشقی میری کب سے، میری التجا ہے یہی رب سے
تو ہی ملے مجھے ہر جگہ، میرے خدا میرے خدا
روبرو مٰیں رہوں تیرے یہی ہے دعا
میری آنکھوں میں رہیں تیرے سپنے صدا
روبرو مٰیں رہوں تیرے یہی ہے دعا
میں فقط ذات ہوں، ہر زمانہ ہے تو
ابتدا بھی میری، انتہا بھی ہے تو
میری امید کا ہر سہارا ہے تو
میرے غم کے بھنور کا کنارا بھی تو
تیرے ہنسی، تیری خوشی
میرے لیے جنت یہی
روبرو مٰیں رہوں تیرے یہی ہے دعا
میری آنکھوں میں رہیں تیرے سپنے صدا
روبرو عشق عشق ہے، عشق عشق ہے
روبرو عشق عشق ہے، عشق عشق ہے
تو میرا چین ہے، میرے نیند ہے، میری چاہت ہے
میرے جینے کی امید ہے، میری راحت ہے
نا ملے اپنا تو قسمت کو نہیں روتے ہیں
چاند سورج بھی کبھی ایک نہیں ہوتے ہیں
روبرو مٰیں رہوں تیرے یہی ہے دعا
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






