Ishiq Me Un ku Ghata Na Hu Jaye Kahein

Poet: Akram Durrani By: Akram Durrani, Trabuco Canyon

Un Kay Deyay Gaye Sadmoon Ku
Tufoon Kee Tarhaan Dil Me Saja Ke Rakhta Hoon Me
Sari Amanatien Hein Un Kee
En Me Kui Kahyanat Karsata Nahi
Un Ke Yak Tarfa Fesloon Pe Ekhtalaf Huta He Mujhay
Par Khmoosh Rehta Hon Kuch Kehta Es Leye Nahi
Un Ku Ranj Ju Fikar De Kar Phir Main
Apnay App Say Me Kui Riyat Kar Sakta Nahi
Muskarahatien Gheroon Me Ja Kar Apni Sari
Taqseem Karkay Khali Haat Lot Atay Hein Wo
Un Kee Sharmindagi Ke Dar Se Apna Haq Mang Ne Ke Leye
Apni Me Main Kui Walaklat Kar Sakta Nahi
Pyar Ke Badlay Pyar Ka Suda Kartay
Bohat Darta Hoon Un Se Esleye Main
Un Ku Ishiq Me Gahta Na Hu Jaye Kahien
Es Khoof Se Aisee Main Kui Teejart Kar Sakta Nahi
Acha Huta He Un Ke Yaad Kee Chader
Subha Hunay Tak Bilkul Bheeg Jati Hay
Majra Shab-E-Faraq Phir Aisay Me Wahaan
Main Kui Ebarat Karsakta Nahi
Pyar Karnay Wala Har Kui Zakham Kahta Hay
Main Ne Bhi Khaya Tu Ye Kui Anokhi Baat Nahi
Nashtar Mehboba Se Lagwanay Ku Khud Ku Baaz Rakh Sakta Nahi
Sadyoon Se Chali Un Kee Tabdeel Main Kui Riwayat Kar Sakta Nahi
Dilasoon Kee Merham Zakhmoon Pe Meray
Ab Rakhna Be Sood Hu Chala Hay Yaroo
Ab Siwaye Mout Kay Bas
Door Durrani Kee Ye Alalat Kui Karsakta Nahi

Rate it:
Views: 671
13 Dec, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL