Pather Ke Sanam Ku Seenay Say Kabhitum Apnay Laga Kar Dekhu

Poet: Akram Durrani By: Akram Durrani, Trabuco Canyon

Jalwoon Ka Tumara Tab-E-Nazara Daway Daroon Ke Hosh Ora Ne Ke Leye
Mosai Pisa Seyah Pathar Nenoon Me Aghar Tum Apnay Laga Kar Dekhu

Saray Mafil Main Bohjay Chehray Chodhvein Ka Chand Nazar Ayien Ge
Roshan Chehray Say Naqaab Tum Apna Gira Kar Dekhu

Khushbo Apni Utar Ke Gul Mehak Tumhari Zeb Tan Kar Lein Gay
Anchal Ek Bar Unku Tum Apna Ourah Kar Dekhu

Surmai Ghatoun Ku Aag Hasad Kee Lag Jaye Gee
Seyah Zulfoon Ku Fizah May Tum Apni Lehra Kar Dekhu

Jism Kee Aanch Se Lawa Ban Kar Bayh Jaye Ga
Pathar Ke Sanam Ku Seenay Say Tum Apnay Laga Kar Dekhu

Nafratoon Ke Aag Bujha Ke Tganda Hu Jaye Ga Humesha Keleye
Apnay Dushman Se Kabhi Haath Tum Apna Mila Kar Dekhu

Shabab Charta Dekh Kar Zahid Kray Imtehaan Me Ulajh Jaye Ga
Angrai Lenay Ku Haath Oper Tum Apnay Utha Kar Dekhu

Tenoon Mousam Ku Chor Ke Sada Ke Leye Chali Jaye Gee Khizaan
Dera Angan Me Chaman Kay Tum Apna Jama Kar Dekhu

Laboon Ke Saath Tumhari Neghayein Bhi Bohat Bolti Hein
Jaan Leni Hu Kisee Ke Tu En Ka Apas Me Khula Tazzad Kara Kar Dekhu

Ishiq Suli Pay Hashar Tak Charhaye Na Rakhay Tu Khena
Pyar Ke Joot Ek Bar Durrani Kay Dil Main Jala Kar Dekhu

Rate it:
Views: 761
13 Dec, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL