Poetries by MAZHAR IQBAL GONDAL
مَوت اِک سَچ ہے، اَٹَل ہے، یَہی فَرمانِ خُدا ہے مَوت اِک سَچ ہے، اَٹَل ہے، یَہی فَرمانِ خُدا ہے
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
جو ظُلم کے اِیوان ہیں، اِک روز گِریں گے جو ظُلم کے اِیوان ہیں، اِک روز گِریں گے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے MAZHAR IQBAL GONDAL
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے MAZHAR IQBAL GONDAL
مُحبت نام ہے اَپنا سَبھی اَندیشے ہار آنے کا مُحبت نام ہے اَپنا سَبھی اَندیشے ہار آنے کا
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا MAZHAR IQBAL GONDAL
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا MAZHAR IQBAL GONDAL
لَہو سے آج پھر تاریخ کا عُنوان لِکھا ہے لَہو سے آج پھر تاریخ کا عُنوان لِکھا ہے
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
ہم نے اَپنوں کے لیے اَپنی جَوانی رَکھ دِی ہم نے اَپنوں کے لیے اَپنی جَوانی رَکھ دِی
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی MAZHAR IQBAL GONDAL
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی MAZHAR IQBAL GONDAL
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا MAZHAR IQBAL GONDAL
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا MAZHAR IQBAL GONDAL
کل پھر عِید چلی گیؑ، وہ زِندان میں بیٹھا ہے کل پھر عِید چلی گیؑ، وہ زِندان میں بیٹھا ہے،
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
" نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم " نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا MAZHAR IQBAL GONDAL
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا MAZHAR IQBAL GONDAL
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی، نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی،
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر،
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے،
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو،
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں،
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں،
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے،
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی،
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے،
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا،
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر،
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے،
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو،
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں،
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں،
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے،
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی،
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے،
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا،
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
عجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں عجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں
خدا نے دکھایا ہے مجھے وہ ،اُسے دل کی ہر سچائی کہوں
یہ کیسی اُلفت ہے میری، اِسے میں اپنی گہرائی کہوں
کہ جس میں ڈوبا ہوں میں، اُسے میں اپنی بینائی کہوں
وہ میری آنکھوں میں ہے، اِسے میں اپنی بینائی کہوں
جو دل میں پنہاں ہے میرے، اُسے میں اپنی دانائی کہوں
یہ میری قسمت ہے کیسی، اِسے میں اپنی رُسوائی کہوں
کہ ہر اِک لمحہ ہے غم کا، اُسے میں اپنی تنہائی کہوں
نہ کوئی منزل ہے میری، نہ کوئی اَپنی رہنمائی کہوں
بس ایک بھٹکا مُسافر، اٰسے میں اپنی سودائی کہوں
یہ دل کا سودا ہے کیسا، اِسے میں اپنی پُشپایؑ کہوں
کہ جس میں کھویا ہے سب کچھ، اُسے میں اپنی نادایؑ کہوں
مظہرؔ یہ کیسی ہے دنیا، اِسے میں اپنی خدائی کہوں
کہ جس میں سب کچھ ہے فانی، اُسے میں اپنی بے ثبایؑ کہوں MAZHAR IQBAL GONDAL
خدا نے دکھایا ہے مجھے وہ ،اُسے دل کی ہر سچائی کہوں
یہ کیسی اُلفت ہے میری، اِسے میں اپنی گہرائی کہوں
کہ جس میں ڈوبا ہوں میں، اُسے میں اپنی بینائی کہوں
وہ میری آنکھوں میں ہے، اِسے میں اپنی بینائی کہوں
جو دل میں پنہاں ہے میرے، اُسے میں اپنی دانائی کہوں
یہ میری قسمت ہے کیسی، اِسے میں اپنی رُسوائی کہوں
کہ ہر اِک لمحہ ہے غم کا، اُسے میں اپنی تنہائی کہوں
نہ کوئی منزل ہے میری، نہ کوئی اَپنی رہنمائی کہوں
بس ایک بھٹکا مُسافر، اٰسے میں اپنی سودائی کہوں
یہ دل کا سودا ہے کیسا، اِسے میں اپنی پُشپایؑ کہوں
کہ جس میں کھویا ہے سب کچھ، اُسے میں اپنی نادایؑ کہوں
مظہرؔ یہ کیسی ہے دنیا، اِسے میں اپنی خدائی کہوں
کہ جس میں سب کچھ ہے فانی، اُسے میں اپنی بے ثبایؑ کہوں MAZHAR IQBAL GONDAL
کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
چراغِ حَرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی
نظر میں عکسِ اُلفت ہے، شباب ہے جناب کی
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی
اَدب کی راہ میں روشن، شہاب ہے جناب کی
جو حَرف حَرف میں ڈھلتی نِصاب ہے جناب کی
دُعائیں بانٹنے والا، خطاب ہے جناب کی
جو َلب پہ آ کے رُکے وہ، گلاب ہے جناب کی
کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ نقاب ہے جناب کی
جو عکس بن کے چمکتی، وہ آب ہے جناب کی
وہ جس کے ذِکر سے مہکے، سحاب ہے جناب کی
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی
سخن کے رنگ میں ہر بات، خواب ہے جناب کی
جو دل پہ اترے وہ نازک، جواب ہے جناب کی
جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ، حساب ہے جناب کی
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی MAZHAR IQBAL GONDAL
چراغِ حَرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی
نظر میں عکسِ اُلفت ہے، شباب ہے جناب کی
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی
اَدب کی راہ میں روشن، شہاب ہے جناب کی
جو حَرف حَرف میں ڈھلتی نِصاب ہے جناب کی
دُعائیں بانٹنے والا، خطاب ہے جناب کی
جو َلب پہ آ کے رُکے وہ، گلاب ہے جناب کی
کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ نقاب ہے جناب کی
جو عکس بن کے چمکتی، وہ آب ہے جناب کی
وہ جس کے ذِکر سے مہکے، سحاب ہے جناب کی
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی
سخن کے رنگ میں ہر بات، خواب ہے جناب کی
جو دل پہ اترے وہ نازک، جواب ہے جناب کی
جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ، حساب ہے جناب کی
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی MAZHAR IQBAL GONDAL
کعبہ بھی سر جھکاتا ہے صدقہ حسینؑ کا کعبہ بھی سر جھکاتا ہے صدقہ حسینؑ کا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا MAZHAR IQBAL GONDAL
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا MAZHAR IQBAL GONDAL
نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے
بس اتنا ہے کہ اب وہ من نہیں ہے
نہ کوئی رنج باقی، نہ شکایت
محبت ہے مگر روشن نہیں ہے
میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہوں
تمہیں لے کر کوئی الجھن نہیں ہے
تعلق کی رمق باقی تو ہے پر
وہ پہلے جیسی کوئی دھن نہیں ہے
کبھی جو آنکھ میں ٹھہرا ہوا تھا
اب اُس آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے
میں تنہا ہوں مگر یہ بھی حقیقت
تمہاری یاد سے دامن نہیں ہے
نہ اشکوں کی وہ پہلی سی روانی
نہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے
یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے
مگر اس میں کوئی پنہاں نہیں ہے
بچھڑ کر بھی عجب رشتہ رہا ہے
کہ دل خالی ہے، پر ویران نہیں ہے
تمہیں سو بار چاہا دل نے لیکن
تمہارے دل میں وہ چاہت نہیں ہے
مظہرؔ اب یہ حقیقت مان بھی لو
یہی کافی ہے، کوئی ان بن نہیں ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
بس اتنا ہے کہ اب وہ من نہیں ہے
نہ کوئی رنج باقی، نہ شکایت
محبت ہے مگر روشن نہیں ہے
میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہوں
تمہیں لے کر کوئی الجھن نہیں ہے
تعلق کی رمق باقی تو ہے پر
وہ پہلے جیسی کوئی دھن نہیں ہے
کبھی جو آنکھ میں ٹھہرا ہوا تھا
اب اُس آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے
میں تنہا ہوں مگر یہ بھی حقیقت
تمہاری یاد سے دامن نہیں ہے
نہ اشکوں کی وہ پہلی سی روانی
نہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے
یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے
مگر اس میں کوئی پنہاں نہیں ہے
بچھڑ کر بھی عجب رشتہ رہا ہے
کہ دل خالی ہے، پر ویران نہیں ہے
تمہیں سو بار چاہا دل نے لیکن
تمہارے دل میں وہ چاہت نہیں ہے
مظہرؔ اب یہ حقیقت مان بھی لو
یہی کافی ہے، کوئی ان بن نہیں ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
مانواں ہوندیاں نیں جی ٹھنڈیاں چھانواں مانواں ہوندیاں نیں جی ٹھنڈیاں چھانواں
تپدے نصیباں اُتے رب دیاں مہربانیاں مانواں
ساہواں دے نال نال اوہدی خوشبو رہندی اے
جاندیاں وی چھڈ جاندیاں نیں اپنی نشانیاں مانواں
خود بھکھیاں رہ کے وی پُت نوں کھلاندیاں
اپنے حصے دیاں خوشیاں کردیاں قربانیاں مانواں
راتاں نوں جاگ جاگ نینداں وار دیندیاں
پُت دیاں خوشیاں لئی لٹاندیاں جوانیاں مانواں
جدو ماں دنیا توں رخصت ہو جائے اک وار
پھر کسے وی ہاسے وچ لبھدیاں نئیں رہندیاں مانواں
ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا
چُپ چُپ رو دیاں نیں خالی خالی دیواراں، مانواں
کول ہوئے تے بندہ قدر وی نئیں جاندا
دور ہو کے یاد آندیاں اوہدیاں پیار دیاں مانواں
قبر تے جا کے بندہ ٹُٹ ٹُٹ کے ایہہ آکھدا
“اک واری ہور آ جا” صدیاں ماردا اے مانواں
ہتھاں دیاں اوہ تھپکیاں لبھدے رہندے نیں
نینداں وی رُس جان تے آندیاں نیں سِسکیاں، مانواں
جیہڑے نصیب والے ماں نوں کول بیٹھے نیں
اوہ کیہہ جانن یارو، کیہہ ہوندیاں جدائیاں مانواں
مظہرؔ اے سچ اے رب دیاں نشانیاں نیں
ماواں توں ودھ کے نئیں لبھدیاں دنیا وچ مانواں MAZHAR IQBAL GONDAL
تپدے نصیباں اُتے رب دیاں مہربانیاں مانواں
ساہواں دے نال نال اوہدی خوشبو رہندی اے
جاندیاں وی چھڈ جاندیاں نیں اپنی نشانیاں مانواں
خود بھکھیاں رہ کے وی پُت نوں کھلاندیاں
اپنے حصے دیاں خوشیاں کردیاں قربانیاں مانواں
راتاں نوں جاگ جاگ نینداں وار دیندیاں
پُت دیاں خوشیاں لئی لٹاندیاں جوانیاں مانواں
جدو ماں دنیا توں رخصت ہو جائے اک وار
پھر کسے وی ہاسے وچ لبھدیاں نئیں رہندیاں مانواں
ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا
چُپ چُپ رو دیاں نیں خالی خالی دیواراں، مانواں
کول ہوئے تے بندہ قدر وی نئیں جاندا
دور ہو کے یاد آندیاں اوہدیاں پیار دیاں مانواں
قبر تے جا کے بندہ ٹُٹ ٹُٹ کے ایہہ آکھدا
“اک واری ہور آ جا” صدیاں ماردا اے مانواں
ہتھاں دیاں اوہ تھپکیاں لبھدے رہندے نیں
نینداں وی رُس جان تے آندیاں نیں سِسکیاں، مانواں
جیہڑے نصیب والے ماں نوں کول بیٹھے نیں
اوہ کیہہ جانن یارو، کیہہ ہوندیاں جدائیاں مانواں
مظہرؔ اے سچ اے رب دیاں نشانیاں نیں
ماواں توں ودھ کے نئیں لبھدیاں دنیا وچ مانواں MAZHAR IQBAL GONDAL
دل کے دروازے کو ہر شام کھلا ہی رکھنا دل کے دروازے کو ہر شام کھلا ہی رکھنا
جیسے ممکن ہو چراغوں کو جلائے رکھنا
راہِ اُمید پہ آنکھوں کو بچھائے رکھنا
کوئی آہٹ ہو تو دھڑکن کو سمجھائے رکھنا
ہجر کی دھوپ میں جلتے ہوئے لمحوں کے لیے
یاد کی چھاؤں کو پلکوں پہ سجائے رکھنا
وہ نہ آئیں تو بھی الزام نہ دینا اُن کو
اپنے حصے میں فقط دل کو منائے رکھنا
کوئی خوشبو، کوئی دستک، کوئی سایہ ہی سہی
اپنی چاہت کا یہ در کھلا ہی رکھائے رکھنا
وقت بے رحم سہی، ضبط بھی لازم ہے مگر
اشک آنکھوں میں کہیں دل میں چھپائے رکھنا
مظہرؔ اک روز وہ پل لوٹ کے آ ہی جائے گا
اپنی اُمید کو بس زندہ بنائے رکھنا MAZHAR IQBAL GONDAL
جیسے ممکن ہو چراغوں کو جلائے رکھنا
راہِ اُمید پہ آنکھوں کو بچھائے رکھنا
کوئی آہٹ ہو تو دھڑکن کو سمجھائے رکھنا
ہجر کی دھوپ میں جلتے ہوئے لمحوں کے لیے
یاد کی چھاؤں کو پلکوں پہ سجائے رکھنا
وہ نہ آئیں تو بھی الزام نہ دینا اُن کو
اپنے حصے میں فقط دل کو منائے رکھنا
کوئی خوشبو، کوئی دستک، کوئی سایہ ہی سہی
اپنی چاہت کا یہ در کھلا ہی رکھائے رکھنا
وقت بے رحم سہی، ضبط بھی لازم ہے مگر
اشک آنکھوں میں کہیں دل میں چھپائے رکھنا
مظہرؔ اک روز وہ پل لوٹ کے آ ہی جائے گا
اپنی اُمید کو بس زندہ بنائے رکھنا MAZHAR IQBAL GONDAL
ہر اک گھر میں وہی اک سادہ دل انسان ہوتا ہے ہر اک گھر میں وہی اک سادہ دل انسان ہوتا ہے
جو سب کے واسطے جیتا ہے، خود قربان ہوتا ہے
اپنی خواہش، اپنی خوشی سب روند دیتا ہے
مگر آخر وہی سب کے لیے نقصان ہوتا ہے
کما کر لاتا ہے جو دن رات سب کے واسطے رزق
اسی کے نام پہ پھر طعنہ بھی آسان ہوتا ہے
جنہیں اس نے سنبھالا تھا سہارا دے کے ہر مشکل
وہی کہتے ہیں یہ بندہ بہت نادان ہوتا ہے
لٹائی جس نے اپنی عمر اور کمائی سب گھر پر
اسی کے حق میں ہر الزام بھی اعلان ہوتا ہے
یہاں رشتے نہیں رہتے، فقط مفہوم رہتا ہے
جہاں مطلب نکل جائے وہی ویران ہوتا ہے
مظہرؔ سچ کہہ دیا تو سب مخالفت میں آ بیٹھے
یہی انجام ہر سچے کا اس جہان ہوتا ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
جو سب کے واسطے جیتا ہے، خود قربان ہوتا ہے
اپنی خواہش، اپنی خوشی سب روند دیتا ہے
مگر آخر وہی سب کے لیے نقصان ہوتا ہے
کما کر لاتا ہے جو دن رات سب کے واسطے رزق
اسی کے نام پہ پھر طعنہ بھی آسان ہوتا ہے
جنہیں اس نے سنبھالا تھا سہارا دے کے ہر مشکل
وہی کہتے ہیں یہ بندہ بہت نادان ہوتا ہے
لٹائی جس نے اپنی عمر اور کمائی سب گھر پر
اسی کے حق میں ہر الزام بھی اعلان ہوتا ہے
یہاں رشتے نہیں رہتے، فقط مفہوم رہتا ہے
جہاں مطلب نکل جائے وہی ویران ہوتا ہے
مظہرؔ سچ کہہ دیا تو سب مخالفت میں آ بیٹھے
یہی انجام ہر سچے کا اس جہان ہوتا ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
جنہیں منبر سے ٹھکرایا گیا منکر کہہ کر اکثر جنہیں منبر سے ٹھکرایا گیا منکر کہہ کر اکثر
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے MAZHAR IQBAL GONDAL
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے MAZHAR IQBAL GONDAL