Poetries by MAZHAR IQBAL GONDAL
کل پھر عِید چلی گیؑ، وہ زِندان میں بیٹھا ہے کل پھر عِید چلی گیؑ، وہ زِندان میں بیٹھا ہے،
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
" نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم " نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا MAZHAR IQBAL GONDAL
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا MAZHAR IQBAL GONDAL
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی، نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی،
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر،
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے،
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو،
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں،
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں،
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے،
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی،
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے،
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا،
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر،
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے،
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو،
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں،
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں،
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے،
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی،
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے،
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا،
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
عجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں عجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں
خدا نے دکھایا ہے مجھے وہ ،اُسے دل کی ہر سچائی کہوں
یہ کیسی اُلفت ہے میری، اِسے میں اپنی گہرائی کہوں
کہ جس میں ڈوبا ہوں میں، اُسے میں اپنی بینائی کہوں
وہ میری آنکھوں میں ہے، اِسے میں اپنی بینائی کہوں
جو دل میں پنہاں ہے میرے، اُسے میں اپنی دانائی کہوں
یہ میری قسمت ہے کیسی، اِسے میں اپنی رُسوائی کہوں
کہ ہر اِک لمحہ ہے غم کا، اُسے میں اپنی تنہائی کہوں
نہ کوئی منزل ہے میری، نہ کوئی اَپنی رہنمائی کہوں
بس ایک بھٹکا مُسافر، اٰسے میں اپنی سودائی کہوں
یہ دل کا سودا ہے کیسا، اِسے میں اپنی پُشپایؑ کہوں
کہ جس میں کھویا ہے سب کچھ، اُسے میں اپنی نادایؑ کہوں
مظہرؔ یہ کیسی ہے دنیا، اِسے میں اپنی خدائی کہوں
کہ جس میں سب کچھ ہے فانی، اُسے میں اپنی بے ثبایؑ کہوں MAZHAR IQBAL GONDAL
خدا نے دکھایا ہے مجھے وہ ،اُسے دل کی ہر سچائی کہوں
یہ کیسی اُلفت ہے میری، اِسے میں اپنی گہرائی کہوں
کہ جس میں ڈوبا ہوں میں، اُسے میں اپنی بینائی کہوں
وہ میری آنکھوں میں ہے، اِسے میں اپنی بینائی کہوں
جو دل میں پنہاں ہے میرے، اُسے میں اپنی دانائی کہوں
یہ میری قسمت ہے کیسی، اِسے میں اپنی رُسوائی کہوں
کہ ہر اِک لمحہ ہے غم کا، اُسے میں اپنی تنہائی کہوں
نہ کوئی منزل ہے میری، نہ کوئی اَپنی رہنمائی کہوں
بس ایک بھٹکا مُسافر، اٰسے میں اپنی سودائی کہوں
یہ دل کا سودا ہے کیسا، اِسے میں اپنی پُشپایؑ کہوں
کہ جس میں کھویا ہے سب کچھ، اُسے میں اپنی نادایؑ کہوں
مظہرؔ یہ کیسی ہے دنیا، اِسے میں اپنی خدائی کہوں
کہ جس میں سب کچھ ہے فانی، اُسے میں اپنی بے ثبایؑ کہوں MAZHAR IQBAL GONDAL
کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
چراغِ حَرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی
نظر میں عکسِ اُلفت ہے، شباب ہے جناب کی
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی
اَدب کی راہ میں روشن، شہاب ہے جناب کی
جو حَرف حَرف میں ڈھلتی نِصاب ہے جناب کی
دُعائیں بانٹنے والا، خطاب ہے جناب کی
جو َلب پہ آ کے رُکے وہ، گلاب ہے جناب کی
کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ نقاب ہے جناب کی
جو عکس بن کے چمکتی، وہ آب ہے جناب کی
وہ جس کے ذِکر سے مہکے، سحاب ہے جناب کی
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی
سخن کے رنگ میں ہر بات، خواب ہے جناب کی
جو دل پہ اترے وہ نازک، جواب ہے جناب کی
جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ، حساب ہے جناب کی
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی MAZHAR IQBAL GONDAL
چراغِ حَرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی
نظر میں عکسِ اُلفت ہے، شباب ہے جناب کی
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی
اَدب کی راہ میں روشن، شہاب ہے جناب کی
جو حَرف حَرف میں ڈھلتی نِصاب ہے جناب کی
دُعائیں بانٹنے والا، خطاب ہے جناب کی
جو َلب پہ آ کے رُکے وہ، گلاب ہے جناب کی
کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ نقاب ہے جناب کی
جو عکس بن کے چمکتی، وہ آب ہے جناب کی
وہ جس کے ذِکر سے مہکے، سحاب ہے جناب کی
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی
سخن کے رنگ میں ہر بات، خواب ہے جناب کی
جو دل پہ اترے وہ نازک، جواب ہے جناب کی
جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ، حساب ہے جناب کی
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی MAZHAR IQBAL GONDAL
نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی نہ چھیڑو لبوں کی وہی خامشی
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے
بس اتنا ہے کہ اب وہ من نہیں ہے
نہ کوئی رنج باقی، نہ شکایت
محبت ہے مگر روشن نہیں ہے
میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہوں
تمہیں لے کر کوئی الجھن نہیں ہے
تعلق کی رمق باقی تو ہے پر
وہ پہلے جیسی کوئی دھن نہیں ہے
کبھی جو آنکھ میں ٹھہرا ہوا تھا
اب اُس آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے
میں تنہا ہوں مگر یہ بھی حقیقت
تمہاری یاد سے دامن نہیں ہے
نہ اشکوں کی وہ پہلی سی روانی
نہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے
یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے
مگر اس میں کوئی پنہاں نہیں ہے
بچھڑ کر بھی عجب رشتہ رہا ہے
کہ دل خالی ہے، پر ویران نہیں ہے
تمہیں سو بار چاہا دل نے لیکن
تمہارے دل میں وہ چاہت نہیں ہے
مظہرؔ اب یہ حقیقت مان بھی لو
یہی کافی ہے، کوئی ان بن نہیں ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
بس اتنا ہے کہ اب وہ من نہیں ہے
نہ کوئی رنج باقی، نہ شکایت
محبت ہے مگر روشن نہیں ہے
میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہوں
تمہیں لے کر کوئی الجھن نہیں ہے
تعلق کی رمق باقی تو ہے پر
وہ پہلے جیسی کوئی دھن نہیں ہے
کبھی جو آنکھ میں ٹھہرا ہوا تھا
اب اُس آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے
میں تنہا ہوں مگر یہ بھی حقیقت
تمہاری یاد سے دامن نہیں ہے
نہ اشکوں کی وہ پہلی سی روانی
نہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے
یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے
مگر اس میں کوئی پنہاں نہیں ہے
بچھڑ کر بھی عجب رشتہ رہا ہے
کہ دل خالی ہے، پر ویران نہیں ہے
تمہیں سو بار چاہا دل نے لیکن
تمہارے دل میں وہ چاہت نہیں ہے
مظہرؔ اب یہ حقیقت مان بھی لو
یہی کافی ہے، کوئی ان بن نہیں ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
مانواں ہوندیاں نیں جی ٹھنڈیاں چھانواں مانواں ہوندیاں نیں جی ٹھنڈیاں چھانواں
تپدے نصیباں اُتے رب دیاں مہربانیاں مانواں
ساہواں دے نال نال اوہدی خوشبو رہندی اے
جاندیاں وی چھڈ جاندیاں نیں اپنی نشانیاں مانواں
خود بھکھیاں رہ کے وی پُت نوں کھلاندیاں
اپنے حصے دیاں خوشیاں کردیاں قربانیاں مانواں
راتاں نوں جاگ جاگ نینداں وار دیندیاں
پُت دیاں خوشیاں لئی لٹاندیاں جوانیاں مانواں
جدو ماں دنیا توں رخصت ہو جائے اک وار
پھر کسے وی ہاسے وچ لبھدیاں نئیں رہندیاں مانواں
ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا
چُپ چُپ رو دیاں نیں خالی خالی دیواراں، مانواں
کول ہوئے تے بندہ قدر وی نئیں جاندا
دور ہو کے یاد آندیاں اوہدیاں پیار دیاں مانواں
قبر تے جا کے بندہ ٹُٹ ٹُٹ کے ایہہ آکھدا
“اک واری ہور آ جا” صدیاں ماردا اے مانواں
ہتھاں دیاں اوہ تھپکیاں لبھدے رہندے نیں
نینداں وی رُس جان تے آندیاں نیں سِسکیاں، مانواں
جیہڑے نصیب والے ماں نوں کول بیٹھے نیں
اوہ کیہہ جانن یارو، کیہہ ہوندیاں جدائیاں مانواں
مظہرؔ اے سچ اے رب دیاں نشانیاں نیں
ماواں توں ودھ کے نئیں لبھدیاں دنیا وچ مانواں MAZHAR IQBAL GONDAL
تپدے نصیباں اُتے رب دیاں مہربانیاں مانواں
ساہواں دے نال نال اوہدی خوشبو رہندی اے
جاندیاں وی چھڈ جاندیاں نیں اپنی نشانیاں مانواں
خود بھکھیاں رہ کے وی پُت نوں کھلاندیاں
اپنے حصے دیاں خوشیاں کردیاں قربانیاں مانواں
راتاں نوں جاگ جاگ نینداں وار دیندیاں
پُت دیاں خوشیاں لئی لٹاندیاں جوانیاں مانواں
جدو ماں دنیا توں رخصت ہو جائے اک وار
پھر کسے وی ہاسے وچ لبھدیاں نئیں رہندیاں مانواں
ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا
چُپ چُپ رو دیاں نیں خالی خالی دیواراں، مانواں
کول ہوئے تے بندہ قدر وی نئیں جاندا
دور ہو کے یاد آندیاں اوہدیاں پیار دیاں مانواں
قبر تے جا کے بندہ ٹُٹ ٹُٹ کے ایہہ آکھدا
“اک واری ہور آ جا” صدیاں ماردا اے مانواں
ہتھاں دیاں اوہ تھپکیاں لبھدے رہندے نیں
نینداں وی رُس جان تے آندیاں نیں سِسکیاں، مانواں
جیہڑے نصیب والے ماں نوں کول بیٹھے نیں
اوہ کیہہ جانن یارو، کیہہ ہوندیاں جدائیاں مانواں
مظہرؔ اے سچ اے رب دیاں نشانیاں نیں
ماواں توں ودھ کے نئیں لبھدیاں دنیا وچ مانواں MAZHAR IQBAL GONDAL
دل کے دروازے کو ہر شام کھلا ہی رکھنا دل کے دروازے کو ہر شام کھلا ہی رکھنا
جیسے ممکن ہو چراغوں کو جلائے رکھنا
راہِ اُمید پہ آنکھوں کو بچھائے رکھنا
کوئی آہٹ ہو تو دھڑکن کو سمجھائے رکھنا
ہجر کی دھوپ میں جلتے ہوئے لمحوں کے لیے
یاد کی چھاؤں کو پلکوں پہ سجائے رکھنا
وہ نہ آئیں تو بھی الزام نہ دینا اُن کو
اپنے حصے میں فقط دل کو منائے رکھنا
کوئی خوشبو، کوئی دستک، کوئی سایہ ہی سہی
اپنی چاہت کا یہ در کھلا ہی رکھائے رکھنا
وقت بے رحم سہی، ضبط بھی لازم ہے مگر
اشک آنکھوں میں کہیں دل میں چھپائے رکھنا
مظہرؔ اک روز وہ پل لوٹ کے آ ہی جائے گا
اپنی اُمید کو بس زندہ بنائے رکھنا MAZHAR IQBAL GONDAL
جیسے ممکن ہو چراغوں کو جلائے رکھنا
راہِ اُمید پہ آنکھوں کو بچھائے رکھنا
کوئی آہٹ ہو تو دھڑکن کو سمجھائے رکھنا
ہجر کی دھوپ میں جلتے ہوئے لمحوں کے لیے
یاد کی چھاؤں کو پلکوں پہ سجائے رکھنا
وہ نہ آئیں تو بھی الزام نہ دینا اُن کو
اپنے حصے میں فقط دل کو منائے رکھنا
کوئی خوشبو، کوئی دستک، کوئی سایہ ہی سہی
اپنی چاہت کا یہ در کھلا ہی رکھائے رکھنا
وقت بے رحم سہی، ضبط بھی لازم ہے مگر
اشک آنکھوں میں کہیں دل میں چھپائے رکھنا
مظہرؔ اک روز وہ پل لوٹ کے آ ہی جائے گا
اپنی اُمید کو بس زندہ بنائے رکھنا MAZHAR IQBAL GONDAL
ہر اک گھر میں وہی اک سادہ دل انسان ہوتا ہے ہر اک گھر میں وہی اک سادہ دل انسان ہوتا ہے
جو سب کے واسطے جیتا ہے، خود قربان ہوتا ہے
اپنی خواہش، اپنی خوشی سب روند دیتا ہے
مگر آخر وہی سب کے لیے نقصان ہوتا ہے
کما کر لاتا ہے جو دن رات سب کے واسطے رزق
اسی کے نام پہ پھر طعنہ بھی آسان ہوتا ہے
جنہیں اس نے سنبھالا تھا سہارا دے کے ہر مشکل
وہی کہتے ہیں یہ بندہ بہت نادان ہوتا ہے
لٹائی جس نے اپنی عمر اور کمائی سب گھر پر
اسی کے حق میں ہر الزام بھی اعلان ہوتا ہے
یہاں رشتے نہیں رہتے، فقط مفہوم رہتا ہے
جہاں مطلب نکل جائے وہی ویران ہوتا ہے
مظہرؔ سچ کہہ دیا تو سب مخالفت میں آ بیٹھے
یہی انجام ہر سچے کا اس جہان ہوتا ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
جو سب کے واسطے جیتا ہے، خود قربان ہوتا ہے
اپنی خواہش، اپنی خوشی سب روند دیتا ہے
مگر آخر وہی سب کے لیے نقصان ہوتا ہے
کما کر لاتا ہے جو دن رات سب کے واسطے رزق
اسی کے نام پہ پھر طعنہ بھی آسان ہوتا ہے
جنہیں اس نے سنبھالا تھا سہارا دے کے ہر مشکل
وہی کہتے ہیں یہ بندہ بہت نادان ہوتا ہے
لٹائی جس نے اپنی عمر اور کمائی سب گھر پر
اسی کے حق میں ہر الزام بھی اعلان ہوتا ہے
یہاں رشتے نہیں رہتے، فقط مفہوم رہتا ہے
جہاں مطلب نکل جائے وہی ویران ہوتا ہے
مظہرؔ سچ کہہ دیا تو سب مخالفت میں آ بیٹھے
یہی انجام ہر سچے کا اس جہان ہوتا ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا مانواں ہوندیاں نیں جی ٹھنڈیاں چھانواں
تپدے نصیباں اُتے رب دیاں مہربانیاں۔
ساہواں دے نال نال اوہدی خوشبو رہندی اے
جاندیاں وی ماواں چھڈ جاندیاں نیں نشانیان۔
خود بھکھیاں رہ کے وی پُت نوں کھلاندیاں
اپنے حصے دیاں خوشیاں کردیاں قربانیاں۔
راتاں نوں جاگ جاگ نینداں وار دیندیاں
پُت دیاں خوشیاں لئی لٹاندیاں جوانیاں۔
جدو ماں دنیا توں رخصت ہو جائے اک وار
پھر کسے وی ہاسے وچ باقی نئیں رہندیاں رانیاں۔
ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا
چُپ چُپ رو دیاں نیں خالی خالی دیواراں۔
کول ہوئے تے بندہ قدر وی نئیں جاندا
دور ہو کے یاد آندیاں اوہدیاں پیار بھریاں گلاں۔
قبر تے جا کے بندہ ٹُٹ ٹُٹ کے ایہہ آکھدا
“اک واری ہور ماں! بس اک واری بُلاواں”
ہتھاں دیاں اوہ تھپکیاں لبھدے رہندے نیں
نینداں وی رُس جان تے آندیاں نیں سِسکیاں۔
جیہڑے نصیب والے ماں نوں کول بیٹھے نیں
اوہ کیہہ جانن یارو، کیہہ ہوندیاں جدائیاں۔
مظہرؔ اے سچ اے رب دیاں نشانیاں نیں ماواں
ماواں توں ودھ کے نئیں لبھدیاں چھانواں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
تپدے نصیباں اُتے رب دیاں مہربانیاں۔
ساہواں دے نال نال اوہدی خوشبو رہندی اے
جاندیاں وی ماواں چھڈ جاندیاں نیں نشانیان۔
خود بھکھیاں رہ کے وی پُت نوں کھلاندیاں
اپنے حصے دیاں خوشیاں کردیاں قربانیاں۔
راتاں نوں جاگ جاگ نینداں وار دیندیاں
پُت دیاں خوشیاں لئی لٹاندیاں جوانیاں۔
جدو ماں دنیا توں رخصت ہو جائے اک وار
پھر کسے وی ہاسے وچ باقی نئیں رہندیاں رانیاں۔
ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا
چُپ چُپ رو دیاں نیں خالی خالی دیواراں۔
کول ہوئے تے بندہ قدر وی نئیں جاندا
دور ہو کے یاد آندیاں اوہدیاں پیار بھریاں گلاں۔
قبر تے جا کے بندہ ٹُٹ ٹُٹ کے ایہہ آکھدا
“اک واری ہور ماں! بس اک واری بُلاواں”
ہتھاں دیاں اوہ تھپکیاں لبھدے رہندے نیں
نینداں وی رُس جان تے آندیاں نیں سِسکیاں۔
جیہڑے نصیب والے ماں نوں کول بیٹھے نیں
اوہ کیہہ جانن یارو، کیہہ ہوندیاں جدائیاں۔
مظہرؔ اے سچ اے رب دیاں نشانیاں نیں ماواں
ماواں توں ودھ کے نئیں لبھدیاں چھانواں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جنازے پر تو آ کر سب نے رو کر ساتھ دیا جنازے پر تو آ کر سب نے رو کر ساتھ دیا
زندہ تھا جب حال میرا کسی نے پوچھا ہی نہیں
دوڑتے آئے سبھی کندھا دینے کے واسطے
زندگی میں ساتھ دینے کو کوئی آیا ہی نہیں
میں نے ہنستے ہنستے اپنے زخم چھپائے تھے
میرے چہرے کے پیچھے درد کسی نے دیکھا نہیں
سب کو فرصت تھی مرے مرنے پہ افسوس کے لیے
جیتے جی حالِ دل کو کسی نے سمجھا ہی نہیں
ہم نے چاہا کہ کوئی پوچھے “کیسے ہو تم آج؟”
ایک مدت ہو گئی، یہ سوال آیا ہی نہیں
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا ساتھ دیتی ہے مگر
جب ضرورت تھی مجھے، کوئی بھی ٹھہرا ہی نہیں
کہہ رہا مظہرؔ یہ قصہ ایک تلخ حقیقت ہے
مرنے پر سب روئے، جینے پہ کسی نے پوچھا ہی نہیں MAZHAR IQBAL GONDAL
زندہ تھا جب حال میرا کسی نے پوچھا ہی نہیں
دوڑتے آئے سبھی کندھا دینے کے واسطے
زندگی میں ساتھ دینے کو کوئی آیا ہی نہیں
میں نے ہنستے ہنستے اپنے زخم چھپائے تھے
میرے چہرے کے پیچھے درد کسی نے دیکھا نہیں
سب کو فرصت تھی مرے مرنے پہ افسوس کے لیے
جیتے جی حالِ دل کو کسی نے سمجھا ہی نہیں
ہم نے چاہا کہ کوئی پوچھے “کیسے ہو تم آج؟”
ایک مدت ہو گئی، یہ سوال آیا ہی نہیں
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا ساتھ دیتی ہے مگر
جب ضرورت تھی مجھے، کوئی بھی ٹھہرا ہی نہیں
کہہ رہا مظہرؔ یہ قصہ ایک تلخ حقیقت ہے
مرنے پر سب روئے، جینے پہ کسی نے پوچھا ہی نہیں MAZHAR IQBAL GONDAL
کسی زندہ دلِ انسان کو ہنسنا سکھا دینا کسی زندہ دلِ انسان کو ہنسنا سکھا دینا
جہانِ زیست میں یہ بھی عبادت سے بہتر ہے۔
کسی رنجیدہ دل کو دو گھڑی راحت عطا کر دینا
یہ صدقہ بھی کئی رسمِ عقیدت سے بہتر ہے۔
کسی بے بس کی آنکھوں میں امیدوں کو جگا دینا
یہ فیضانِ محبت ہر سخاوت سے بہتر ہے۔
کسی ٹوٹے ہوئے دل کو ذرا سہلا کے رکھ دینا
یہ اعزازِ مروّت ہر شرافت سے بہتر ہے۔
محبت کی کرن دل کی اندھیری شب میں بھر دینا
چراغِ مہر جلانا ہر عبادت سے بہتر ہے۔
جو زندہ ہیں انہی کے درد کا درماں کیا جائے
یہ خدمت بھی ہزاروں رسمِ الفت سے بہتر ہے۔
کہا مظہر نے اہلِ دل سے یہی آئینِ الفت ہے
کسی کے لب پہ مسکانیں سجانا سب سے بہتر ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جہانِ زیست میں یہ بھی عبادت سے بہتر ہے۔
کسی رنجیدہ دل کو دو گھڑی راحت عطا کر دینا
یہ صدقہ بھی کئی رسمِ عقیدت سے بہتر ہے۔
کسی بے بس کی آنکھوں میں امیدوں کو جگا دینا
یہ فیضانِ محبت ہر سخاوت سے بہتر ہے۔
کسی ٹوٹے ہوئے دل کو ذرا سہلا کے رکھ دینا
یہ اعزازِ مروّت ہر شرافت سے بہتر ہے۔
محبت کی کرن دل کی اندھیری شب میں بھر دینا
چراغِ مہر جلانا ہر عبادت سے بہتر ہے۔
جو زندہ ہیں انہی کے درد کا درماں کیا جائے
یہ خدمت بھی ہزاروں رسمِ الفت سے بہتر ہے۔
کہا مظہر نے اہلِ دل سے یہی آئینِ الفت ہے
کسی کے لب پہ مسکانیں سجانا سب سے بہتر ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
چراغِ دل کو میں شب بھر جلا کے دیکھتا ہوں میں چراغِ دل کو میں شب بھر جلا کے دیکھتا ہوں میں
کسی صورت وہ رخسارِ وفا کو دیکھتا ہوں میں
شبِ ہجراں میں سوزِ شمع دل کو کھا گیا آخر
نہ آیا وہ، فقط نقشِ تمنا دیکھتا ہوں میں
فغاں ہے، آہ ہے، اور اشکِ خوں رنگیں کی بارش ہے
اسی عالم میں اپنا ماجرا کو دیکھتا ہوں میں
کبھی پروانہ بن کر شمعِ رخ کے گرد جلتا تھا
اب اپنی خاک میں وہ داغِ شعلہ دیکھتا ہوں میں
وعدۂ وصل تھا جس پر دلِ بیتاب ٹھہرا تھا
اسی وعدے کو اب خواب و ہوا کو دیکھتا ہوں میں
نہ وہ آیا، نہ پیغامِ کرم کوئی سحر لایا
فقط ہر سمت گردِ انتظار کو دیکھتا ہوں میں
کہے مظہرؔ یہ قصہ دردِ ہجراں کی حکایت ہے
جلا کر دل، اسی سوزِ نہاں کو دیکھتا ہوں میں MAZHAR IQBAL GONDAL
کسی صورت وہ رخسارِ وفا کو دیکھتا ہوں میں
شبِ ہجراں میں سوزِ شمع دل کو کھا گیا آخر
نہ آیا وہ، فقط نقشِ تمنا دیکھتا ہوں میں
فغاں ہے، آہ ہے، اور اشکِ خوں رنگیں کی بارش ہے
اسی عالم میں اپنا ماجرا کو دیکھتا ہوں میں
کبھی پروانہ بن کر شمعِ رخ کے گرد جلتا تھا
اب اپنی خاک میں وہ داغِ شعلہ دیکھتا ہوں میں
وعدۂ وصل تھا جس پر دلِ بیتاب ٹھہرا تھا
اسی وعدے کو اب خواب و ہوا کو دیکھتا ہوں میں
نہ وہ آیا، نہ پیغامِ کرم کوئی سحر لایا
فقط ہر سمت گردِ انتظار کو دیکھتا ہوں میں
کہے مظہرؔ یہ قصہ دردِ ہجراں کی حکایت ہے
جلا کر دل، اسی سوزِ نہاں کو دیکھتا ہوں میں MAZHAR IQBAL GONDAL
تھک گیا ہوں میں جلا جلا کے اسے، وہ آتا ہی نہیں تھک گیا ہوں میں جلا جلا کے اسے، وہ آتا ہی نہیں
دل کو بہلا کے بھی دیکھ لیا، سکون آتا ہی نہیں
رات بھر شمع کی صورت میں تڑپتا ہوں مگر
کوئی پروانہ مرے حال پہ اب آتا ہی نہیں
ہم نے چاہا کہ اسے یاد نہ کریں لیکن
دل ہے کہ اک لمحہ بھی اسے بھول پاتا ہی نہیں
کوئی امید کی کرن بھی نہیں اب دل میں
جیسے اس شہر میں سورج کبھی آتا ہی نہیں
وہ جو وعدہ تھا ملاقات کا، خوابوں میں سہی
اب تو خوابوں میں بھی وہ شخص نظر آتا ہی نہیں
یوں تو ہر شخص تسلّی کے لیے آتا ہے
کوئی اس درد کو لیکن کبھی سمجھاتا ہی نہیں
کہہ رہا مظہرؔ یہی حالِ دلِ زار اپنا
جس کو چاہا تھا وہی پاس بلاتا ہی نہیں MAZHAR IQBAL GONDAL
دل کو بہلا کے بھی دیکھ لیا، سکون آتا ہی نہیں
رات بھر شمع کی صورت میں تڑپتا ہوں مگر
کوئی پروانہ مرے حال پہ اب آتا ہی نہیں
ہم نے چاہا کہ اسے یاد نہ کریں لیکن
دل ہے کہ اک لمحہ بھی اسے بھول پاتا ہی نہیں
کوئی امید کی کرن بھی نہیں اب دل میں
جیسے اس شہر میں سورج کبھی آتا ہی نہیں
وہ جو وعدہ تھا ملاقات کا، خوابوں میں سہی
اب تو خوابوں میں بھی وہ شخص نظر آتا ہی نہیں
یوں تو ہر شخص تسلّی کے لیے آتا ہے
کوئی اس درد کو لیکن کبھی سمجھاتا ہی نہیں
کہہ رہا مظہرؔ یہی حالِ دلِ زار اپنا
جس کو چاہا تھا وہی پاس بلاتا ہی نہیں MAZHAR IQBAL GONDAL
غزل کسی اپنے کے نام ایک بسمل، ایک زخمِ دل ہی ساتھ اپنا رہا،
عمر بھر یہ درد ہی سرمایۂ دنیا رہا۔
چھوٹی سی عمر میں دنیا کے سبھی رنگ دیکھے،
خاک چھانی، تب کہیں جا کر مرا چرچا رہا۔
محنتوں سے نام پایا، سر بھی اونچا ہو گیا،
گھر کے اندر کرب لیکن خامشی سے پلتا رہا۔
ایک چاہت تھی جسے دل نے خدا جانا کبھی،
وہ کسی اور کے حصّے کا ہی لکھا رہا۔
جب ملا سب کچھ تو جیسے ہاتھ خالی رہ گئے،
زندگی کا خواب بھی آنکھوں میں ادھورا رہا۔
درد نے ہر موڑ پر مجھ کو سنبھالا اے دوست،
ورنہ ہر اک زخم دل کو توڑ کر بکھرا رہا۔
کہہ رہا مظہرؔ یہی افسانۂ ہستی کا حال،
سب کچھ اس دنیا میں پایا، پر نہ خود اپنا رہا۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
عمر بھر یہ درد ہی سرمایۂ دنیا رہا۔
چھوٹی سی عمر میں دنیا کے سبھی رنگ دیکھے،
خاک چھانی، تب کہیں جا کر مرا چرچا رہا۔
محنتوں سے نام پایا، سر بھی اونچا ہو گیا،
گھر کے اندر کرب لیکن خامشی سے پلتا رہا۔
ایک چاہت تھی جسے دل نے خدا جانا کبھی،
وہ کسی اور کے حصّے کا ہی لکھا رہا۔
جب ملا سب کچھ تو جیسے ہاتھ خالی رہ گئے،
زندگی کا خواب بھی آنکھوں میں ادھورا رہا۔
درد نے ہر موڑ پر مجھ کو سنبھالا اے دوست،
ورنہ ہر اک زخم دل کو توڑ کر بکھرا رہا۔
کہہ رہا مظہرؔ یہی افسانۂ ہستی کا حال،
سب کچھ اس دنیا میں پایا، پر نہ خود اپنا رہا۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
کسی زندہ دلِ انسان کو ہنسنا سکھا دینا, کسی زندہ دلِ انسان کو ہنسنا سکھا دینا,
جہانِ زیست میں یہ بھی عبادت سے بہتر ہے.
کسی رنجیدہ دل کو دو گھڑی راحت عطا کر دینا,
یہ صدقہ بھی کئی رسمِ عقیدت سے بہتر ہے.
کسی بے بس کی آنکھوں میں امیدوں کو جگا دینا,
یہ فیضانِ محبت ہر سخاوت سے بہتر ہے.
کسی ٹوٹے ہوئے دل کو ذرا سہلا کے رکھ دینا,
یہ اعزازِ مروّت ہر شرافت سے بہتر ہے.
محبت کی کرن دل کی اندھیری شب میں بھر دینا,
چراغِ مہر جلانا ہر عبادت سے بہتر ہے.
جو زندہ ہیں انہی کے درد کا درماں کیا جائے,
یہ خدمت بھی ہزاروں رسمِ الفت سے بہتر ہے.
کہا مظہر نے اہلِ دل سے یہی آئینِ الفت ہے,
کسی کے لب پہ مسکانیں سجانا سب سے بہتر ہے. MAZHAR IQBAL GONDAL
جہانِ زیست میں یہ بھی عبادت سے بہتر ہے.
کسی رنجیدہ دل کو دو گھڑی راحت عطا کر دینا,
یہ صدقہ بھی کئی رسمِ عقیدت سے بہتر ہے.
کسی بے بس کی آنکھوں میں امیدوں کو جگا دینا,
یہ فیضانِ محبت ہر سخاوت سے بہتر ہے.
کسی ٹوٹے ہوئے دل کو ذرا سہلا کے رکھ دینا,
یہ اعزازِ مروّت ہر شرافت سے بہتر ہے.
محبت کی کرن دل کی اندھیری شب میں بھر دینا,
چراغِ مہر جلانا ہر عبادت سے بہتر ہے.
جو زندہ ہیں انہی کے درد کا درماں کیا جائے,
یہ خدمت بھی ہزاروں رسمِ الفت سے بہتر ہے.
کہا مظہر نے اہلِ دل سے یہی آئینِ الفت ہے,
کسی کے لب پہ مسکانیں سجانا سب سے بہتر ہے. MAZHAR IQBAL GONDAL
اظہر اقبال گوندل کا نکاح نِکاح کی یہ ساعَت مُبارک رہے سَدا
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ MAZHAR IQBAL GONDAL
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ MAZHAR IQBAL GONDAL