مانواں ہوندیاں نیں جی ٹھنڈیاں چھانواں

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

مانواں ہوندیاں نیں جی ٹھنڈیاں چھانواں
تپدے نصیباں اُتے رب دیاں مہربانیاں مانواں

ساہواں دے نال نال اوہدی خوشبو رہندی اے
جاندیاں وی چھڈ جاندیاں نیں اپنی نشانیاں مانواں

خود بھکھیاں رہ کے وی پُت نوں کھلاندیاں
اپنے حصے دیاں خوشیاں کردیاں قربانیاں مانواں

راتاں نوں جاگ جاگ نینداں وار دیندیاں
پُت دیاں خوشیاں لئی لٹاندیاں جوانیاں مانواں

جدو ماں دنیا توں رخصت ہو جائے اک وار
پھر کسے وی ہاسے وچ لبھدیاں نئیں رہندیاں مانواں

ویران ہو جاندا اے دل دا ہر اک کونا
چُپ چُپ رو دیاں نیں خالی خالی دیواراں، مانواں

کول ہوئے تے بندہ قدر وی نئیں جاندا
دور ہو کے یاد آندیاں اوہدیاں پیار دیاں مانواں

قبر تے جا کے بندہ ٹُٹ ٹُٹ کے ایہہ آکھدا
“اک واری ہور آ جا” صدیاں ماردا اے مانواں

ہتھاں دیاں اوہ تھپکیاں لبھدے رہندے نیں
نینداں وی رُس جان تے آندیاں نیں سِسکیاں، مانواں

جیہڑے نصیب والے ماں نوں کول بیٹھے نیں
اوہ کیہہ جانن یارو، کیہہ ہوندیاں جدائیاں مانواں

مظہرؔ اے سچ اے رب دیاں نشانیاں نیں
ماواں توں ودھ کے نئیں لبھدیاں دنیا وچ مانواں

Rate it:
Views: 39
20 Apr, 2026
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL