Riwayat Tor Di
Poet: N/A By: Shahzad, MultanWo Aksar Mujh Se Kehti The
Sunu Ae Raz Daa"N Dil K
Wafa Badnam Na Karna
Ye Qissa Aam Na Karna
Wo Aksar Mujh Se Kehti The
Sunu Ae Mahrban Dil K
Mhjhe Tum Per Bharosa Hai
Magar Ye Bhi Haqeeqat Hai
Ajab Sa Khauff Hai Dil Min
K Jin Anjan Rastoon Per Chale Jate Hain Hum Donu
Kisi Raste Pe Tum Mujh Ko Akela Chor Jao Ge
Mera Dil Tor Jao Ge
Wo Aksar Mujh Se Kehti The
Tumhari Yad Min Gum Sum
Min Yun Hi Apne Kamre Min
Akele Ghantoo Roti Hon
Sakoon Se Min Na Soti Hon
Woh Aksar Mujh Se Kehti The
Wafa Hai Zaat Aurat Ki
Magar Jo Mard Hote Hain
Bare Be Dard Hote Hain
Kisi Bhanware Ki Surat Gul Ki Khushbu Loot Jate Hain
Palat K Phir Na Aate Hain
Wo Aksar Mujh Se Kehti The
Sunu Tum Ko Qasam Meri
Kabhi Aisa Na Karna Tum
Na Tanha Chor Kl Jana
Na Ye Dil Tor K Jana
Magar Phir Yun Huwa Hamdam
Kisi Anjan Raste Per Akela Chor Kr Usne
Mera Dil Tor Kar Usne
Muhabbat Chor Di Usne
Wafa Hai Zat Aurat Ki
Riwayat Tor Di Usne
Wafa Hai Zat Aurat Ki
Riwayat Tor Di Usne
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






