یہ نہ سوچا تھا کبھی دل کے اجالے جائیں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا
Yeh Nah Socha Tha Kabhi Dil Ke Ujalay Jayen

یہ نہ سوچا تھا کبھی دل کے اجالے جائیں
جان کے بدلے یہاں درد اچھا لے جائیں

میں نے ہر دشت میں چھانی ہے ترے ہجر کی خاک
کیسے پاؤں کے مری جان یہ چھالے جائیں

یہ تو ڈستے ہیں سرِ راہ تمنا دل کو
آستینوں میں کبھی سانپ نہ پالے جائیں

اس سے پہلے کہ کوئی اور چرالے ان کو
آؤ آنکھوں کے کہیں خواب بہالے جائیں

کون کہتا ہے کہ پھر حسرتیں تعمیر کریں
وہ فقیروں کی فقط آکے دعا لے جائیں

بہتا دریا ہو تری یاد کا ہر سو وشمہ
میری آنکھوں سے اگر آنسو نکالے جائیں

Rate it:
Views: 632
30 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL