میری کہانی ہے وہ جو بے نتیجہ ختم ہوئی تھی

Poet: حمزہ محبوب By: Raja Ahad, Rawalpindi
Meri Kahani Hai Woh Jo Be Nateeja Khatam Hui Thi

 وہ کشتی طوفان سے تو نہیں ڈوبی تھی
تیر سکتی تھی ،مگر شہیتروں میں غداری تھی

راستہ آگے دِکھ سکتا تھا ،اگر چراغ جلتے رہتے
شمع ہواؤں نے نہیں ،خود چراغوں نے بجھائی تھی

سفر یہ چل سکتا تھا مزید تمھارے ہم سفر رہ کر
بعد تمھارے زمین کی میرے قدموں سے جدائی تھی

جب بچھڑ چکے ہو تو دِکھلاوا کیا کرنا ،شکوہ ہے یہ
کیوں کل محفل میں ہاتھ ملانے کی رسم نبھائی تھی

اور کہانی پوچھتے ہیں زمانے والے مجھ سے میری
تو سنو!میری کہانی ہے وہ جو بے نتیجہ ختم ہوئی تھی

Rate it:
Views: 1050
30 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL