آزاد نظم
Poet: ملک جمال شہزاد By: Malik Jamal Shahzad , Rawalpindiوہ تجھے دیکھنے کی حسرت ہے
وہ میرے پیار کی ہی کثرت ہے
لوٹ آؤں گا ستم سہہ کر بھی
تو تمنا ہے تو ضرورت ہے۔۔۔
وہ جس نظر سے تجھے دیکھا ہے
اسی نظر میں میری چاہت ہے
میں تیرا منتظر رہوں گا صنم
تیری یادوں میں میری راحت ہے
میرا ایمان یہ کہتا ہے جمال
اب تجھے دیکھنا عبادت ہے
More Love / Romantic Poetry






