آپکے ہاتھ میں"پروین" کی "خوشبو" تھی کل

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

دل بیتاب کو دیجے جواب ۔ کچھ کہئے
ٹھہر نہ جائے یہ خانہ خراب ۔ کچھ کہئے

کونسی مے بھلا دیدار سے بڑھ کر ساقی
ایک جانب کو کیجئے شراب ۔ کچھ کہئے

زندگی کب سے تکلم کا مزہ ڈھونڈتی ہے
ہونٹ تو کھولئے عزت مآب کچھ کہئے

آپکے ساتھ میں سارے شمار بھول گیا
میرے دامن میں تھے کتنے ثواب کچھ کہئے

آج تعبیر لئے سحر کی کرنیں لپکیں
رات بھر کون رہا محو خواب کچھ کہئے

بعد مدت کے یہ اظہار کا لمحہ آیا
ہاتھ میں تھام کے تازہ گلاب کچھ کہئے

کیا کبھی عہد حقیقت بھی ہم پہ گزرے گا
اے مرے شوق اے میرے سراب کچھ کہئے

آپکے ہاتھ میں"پروین" کی "خوشبو" تھی کل
ہو گئے پڑھ کے سراپا کتاب ۔ کچھ کہئے

میری گزری ہوئی گھڑیوں کو پرکھ کر جو ملا
زندگی کا وہی لب لباب کچھ کہئے

Rate it:
Views: 684
12 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL