سوچ سے وہ محال ہے شاید

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

سوچ سے وہ محال ہے شاید
یہ بھی اس کا کمال ہے شاید

کیا کروں میرا جی نہیں لگتا
احتمالِ زوال ہے شاید

کیے جاتا ہوں زندگی برباد
انتہاء سے وصال ہے شاید

میں جو ہوں، یعنی میں، کسی کا نہیں
یہی میرا کمال ہے شاید

خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
مے یہی اک حلال ہے شاید

اپنے ہی کان بھرتا رہتا ہوں
یہ مری خفیہ چال ہے شاید

کیا کروں، بول ہی نہیں پاتا
خامشی کا سوال ہے شاید

اب اسے بھول کر ہی دم لوں گا
اتنی مجھ میں مجال ہے شاید

سوچتا ہوں تو سوچتا ہوں یہی
تیرا ہونا محال ہے شاید

تیری تصویر دھندلی کیوں ہے
پردگی کا سوال ہے شاید

تٗو جو ہے ناں تُو صرف میرا ہے
یہ بھی میرا خیال ہے شاید

مجھے اپنی مثال ملتی نہیں
یعنی میں بے مثال ہوں شاید

جنید عطاری
 

Rate it:
Views: 439
19 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL