ہجر میں کچھ ملال بھی تو ہو
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالہجر میں کچھ ملال بھی تو ہو
یاد سے دل نڈھال بھی تو ہو
ہم جیئں گے خوشی خوشی لیکن
اِس میں کوئی کمال بھی تو ہو
چھیل لیں گے گلا ہی اپنا ہم
لب پہ کوئی سوال بھی تو ہو
وہ ہمارے تئیں کمال رہا
کاش اُس کو زوال بھی تو ہو
ہو ہی جائیں گے ہم کسی اور کہ
پر کوئی بے مثال بھی تو ہو
سبھی ممکن رہا ہے تیرے لیے
اے خدا، کچھ محال بھی تو ہو
عمر بھر کے فراق میں تیرے
ایک لمحہ وصال بھی تو ہو
کر رہا ہوں میں زندگی برباد
کبھی اِس پر ملال بھی تو ہو
ہیں سبھی مثل ایک دُوجے کی
اور خدا کی مثال بھی تو ہو
اور سہنے ہیں کربِ زیست مگر
کچھ طبیعت بحال بھی تو ہو
اے خدا، ہم تباہ حالوں کا
کوئی پُرسانِ حال بھی تو ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






