ابلیس تیری ایک خدا سے نہ بن سکی

Poet: NAVEED SHAH NISHAT By: NAVEED SHAH NISHAT, Jhelum

یہ ضد تھی یا انا کہ سجدہ نہ بن سکی
ابلیس تیری ایک خدا سے نہ بن سکی

ہم آدمی رہے، مگر اس کے نہ بن سکے
اک بات جو قبولِ رضا سے نہ بن سکی

سجدوں میں ہم رہے، مگر تیرے نہ بن سکے
دل میں رہی بغاوت، دعا سے نہ بن سکی

حق بات لب پہ آئی تو لہجہ بدل گیا
وہ بات پھر کسی کی ادا سے نہ بن سکی

سچ کا سفر تھا، ساتھ میں تنہائیاں رہیں
یہ راہ بھی ہجومِ صدا سے نہ بن سکی

کچھ خواب آنکھ بھر کے فقط دیکھتے رہے
تعبیر کوئی لمسِ وفا سے نہ بن سکی

نوید! یہ شکست بھی فتح سے کم نہیں
میں۔۔۔ ہار کر بھی۔۔ اہلِ جفا سے نہ بن سکی
 

Rate it:
Views: 76
16 Apr, 2026
More Love / Romantic Poetry