جو آپ کی تھی نظرِ عنائیت بھی نہیں ہے

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

جو آپ کی تھی نظرِ عنائیت بھی نہیں ہے
اب دل میں وہ پہلی سی محبت بھی نہیں ہے

کچھ ان کے بھی بدلے سے نظر آتے ہیں تیور
پہلی سی میسر ہمیں فرصت بھی نہیں ہے

اُس شخص کو منصف کے نبھانے ہیں فرائض
وہ شخص جو انصاف کی مورت بھی نہیں ہے

حاصل ہیں انھیں اور بہت چاہنے والے
اب اُن کو مری خاص ضرورت بھی نہیں ہے

اب دور ہوئے جاتے ہیں مذہب سے بہت ہم
پہلا سا وہ اب شوقِ عبادت بھی نہیں ہے

ذہنوں پہ ہیں چھائے ہوئے ابہام کے سائے
اور سامنے کچھ اس کی وضاحت بھی نہیں ہے

ہر آئینہ بے عکس ہوا جاتا ہے اب کے
اور اس میں کہیں کوئی شباہت بھی نہیں ہے

کیا جانے خفا ہم سے وہ کیوں رہتے ہیں اکثر
ہر چند کوئی ان سے عداوت بھی نہیں ہے

گم گشتہ تعلق کا ہی کچھ پاس تو رکھ لیں
اب لوگوں میں اتنی سی مروت بھی نہیں ہے

دن رات ترے عشق میں ہم مٹتے رہے ہیں
اور لب پہ کوئی حرفِ شکائت بھی نہیں ہے

Rate it:
Views: 1302
07 May, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL