ادھورا ہے افسانہ

Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quetta

ادھورا ہے یہ افسانہ
نشانہ اس کی چاہت کا

پتنگے جیسا پروانہ
بنا جس دن اچانک سے

تو میرے دل نے یہ جانا
یہ سب باتیں خیالی ہیں

کسی حد تک جمالی ہیں نرالی ہیں
مگر اس کو صدف کا دل

کسی صورت نہیں مانا
پھر اس کے بید جانے کیوں؟

مجھے بھی یہ خیال آیا
حقیقت جس کو سمجھا ہے

محبت جس کو جانا ہے
حقیقت وہ نہیں بالکل

محبت وہ نہں بالکل
ادھورا ہے یہ افسانہ

مکمل جس کو ہے جانا
ادھورا ہے یہ افسانہ

کسی کے دل نے یہ مانا
میری آنکھیں ہیں میخانہ
یقین کرنا پڑا مجھ کو
کہ اب تو نے نہیں آنا

بہت دشوار لگتا ہے
دلِ ناداں کو بہلانا

جسے اپنا سمجھ بیٹھی
وہی نکلا ہے بیگانہ

طبیعت جب بھی گھبرائے
میری جانب چلے آنا

مجھے بھی اب عطا کر دے
وفا اپنی جدا گانہ

صدف دل میں خلش سی ہے
ادھورا ہے یہ افسانہ
 

Rate it:
Views: 510
21 Apr, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL