ادھورا ہے افسانہ
Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quettaادھورا ہے یہ افسانہ
نشانہ اس کی چاہت کا
پتنگے جیسا پروانہ
بنا جس دن اچانک سے
تو میرے دل نے یہ جانا
یہ سب باتیں خیالی ہیں
کسی حد تک جمالی ہیں نرالی ہیں
مگر اس کو صدف کا دل
کسی صورت نہیں مانا
پھر اس کے بید جانے کیوں؟
مجھے بھی یہ خیال آیا
حقیقت جس کو سمجھا ہے
محبت جس کو جانا ہے
حقیقت وہ نہیں بالکل
محبت وہ نہں بالکل
ادھورا ہے یہ افسانہ
مکمل جس کو ہے جانا
ادھورا ہے یہ افسانہ
کسی کے دل نے یہ مانا
میری آنکھیں ہیں میخانہ
یقین کرنا پڑا مجھ کو
کہ اب تو نے نہیں آنا
بہت دشوار لگتا ہے
دلِ ناداں کو بہلانا
جسے اپنا سمجھ بیٹھی
وہی نکلا ہے بیگانہ
طبیعت جب بھی گھبرائے
میری جانب چلے آنا
مجھے بھی اب عطا کر دے
وفا اپنی جدا گانہ
صدف دل میں خلش سی ہے
ادھورا ہے یہ افسانہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






