اس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہے
اس سے مل کر میں نے جانا روشنی خطرے میں ہے
اس کی صورت دیکھ کر بولا ستاروں سے قمر
یار لگتا ہے کہ اپنی نوکری خطرے میں ہے
اس کے ہاتھوں میں چھری کو دیکھ کر حیران ہوں
انگلیاں خطرے میں ہیں یا پھر چھری خطرے میں ہے
کیا کہا تم نے اسے دیکھا ہے اپنے شہر میں
یعنی اب تو شہر کا ہر آدمی خطرے میں ہے
کون ہیرا ہے یہاں اور کون ہے ہیرا نما
فرق اتنا سا بتا کر جوہری خطرے میں ہے
جھیل سی آنکھوں میں اس کی ڈوب سکتی ہے کبھی
روک لو اس کو کوئی جا کر ندی خطرے میں ہے
بے سر و پا شعر کہہ کر خوش تھا میں عامر عطاؔ
میرؔ جی سپنے میں بولے شاعری خطرے میں ہے