اس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہے
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiاس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہے
اس سے مل کر میں نے جانا روشنی خطرے میں ہے
اس کی صورت دیکھ کر بولا ستاروں سے قمر
یار لگتا ہے کہ اپنی نوکری خطرے میں ہے
اس کے ہاتھوں میں چھری کو دیکھ کر حیران ہوں
انگلیاں خطرے میں ہیں یا پھر چھری خطرے میں ہے
کیا کہا تم نے اسے دیکھا ہے اپنے شہر میں
یعنی اب تو شہر کا ہر آدمی خطرے میں ہے
کون ہیرا ہے یہاں اور کون ہے ہیرا نما
فرق اتنا سا بتا کر جوہری خطرے میں ہے
جھیل سی آنکھوں میں اس کی ڈوب سکتی ہے کبھی
روک لو اس کو کوئی جا کر ندی خطرے میں ہے
بے سر و پا شعر کہہ کر خوش تھا میں عامر عطاؔ
میرؔ جی سپنے میں بولے شاعری خطرے میں ہے
More Love / Romantic Poetry






