اسیر
Poet: عامر ظہور آدی By: Aamir zahoor, Faisalabadتلخیاں بڑھنے لگیں بات بات پہ
جا کے ٹھہری ہے محض شکایات پہ
بے سبب نہ تھا روٹھ کے جانا تیرا
راز کھلتے ہیں نئے سوالات پہ
بے جا دردمندی بھی خسمِ جاں ہوئی
اب تو حشر بپا ہوگا وصل کی رات پہ
آپ کے تمام شکوے بجا ہوئے پر
کیا خوب تھا ہوتا یہ سب ملاقات پہ
میں ناداں ہوں نا سمجھ ہوں پیارے
گر بات رکی ہے آکر مری اوقات پہ
خود ہی منصف و اہلِ قلم ہوے ہو آدی
فیصلہ دے دیتے ہو مری ذات پہ
More Love / Romantic Poetry






