اقرا
Poet: دانشور By: Mohammad Danishwer , Lahoreخلوت کے کچھ لمحات چاہتا ہوں
زندگی سے کچھ پل ادھار چاہتا ہوں
کسی کی خاطر میں سوچ و بچار چاہتا ہوں
اب مَیں مجھے نہیں، اسے بار بار چاہتا ہوں
جو دیکھے تو ہر شے میں مَیں دِکھوں
تڑپے میری دید کو، میں وہ نگاہ چاہتا ہوں
وہ جو میرے ہر غم کو غلط کر دے
ایسی کسی ہستی کا ساتھ چاہتا ہوں
لذت سے جس کے باقی کوئی کسر نہ رہے
میں زندگی سے وہ توشہِ بے مثال چاہتا ہوں
خالی پن کو میرے وہ برابر بھر دے
میں وہ یار، کردار، گفتار ایک ساتھ چاہتا ہوں
تنقید کی بوچھاڑ میں جو تڑپ اٹھے
بے زبانی میں مَیں وہ زبان چاہتا ہوں
سمجھے، تو سمجھ جائے الٹے لفظوں کو میرے
مَیں دوستوں میں کسی دوست کو بے پناہ چاہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







