اندھیرا تھا گھر میں روشنی کی
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiاندھیرا تھا گھر میں روشنی کی
بچائے کچھ پیسے سادگی کی
بہار آئے مرے بھی گھر میں
نہ چاہتے ہوئے نوکری کی
برا نہ کہنا کسی کے بارے
بری ہے خصلت یہ آدمی کی
کسی نے پوچھا نہیں ہے مجھ سے
یہ عشق کیا اور عاشقی کی
رہو گے مخلص ہی دوست بن کر
یہ سوچ کر تم سے دوستی کی
کبھی نہ ٹالا ہے حکم ان کا
جھکا نہیں ہوں میں بندگی کی
کبھی خوشی تو کبھی غمی ہے
عجب کہانی ہے زندگی کی
کہا یہ شہزاد اس نے مجھ کو
یہاں پہ چلتی نہیں کسی کی
More Love / Romantic Poetry






