انہیں آج میں نے دیکھا
Poet: Ausaf Ahmad By: Ausaf Ahmad, Karachiانہیں آج میں نے دیکھا سر ِ راہ چلتے چلتے
وہ نظر میں بس گئے ہیں نہیں دل سے اب نکلتے
حسیں اور بھی بہت تھے مگر ان کی بات کیا تھی
اگر کچھ نیا نہ ہوتا تو نظر میں وہ نہ بستے
مجھے پہلی ہی نظر میں وہ کر گئے تھے گھائل
اگر جانتے وہ مجھ کو نہ کبھی وہ یوں سنورتے
بڑا ناز تھا انہیں جو حسن و ادا پہ اپنی
کوئی ان کو دیکھتا کیوں جو لہک کے وہ نہ چلتے
ہمیں قرب کی تمنا اسی پیار کے سبب تھی
جو تڑپ نہ ہوتی دل میں وہ ہمیں نہ زیر کرتے
نا مہرباں تھی قسمت جو مل گئے وہ مجھ کو
نہ ان کو دیکھا ہوتا نہ آج ان پہ مرتے
چلے تیر دل پہ میرے اسی بے حسی کے مارے
اگر التفات کرتے مرے دل کے زخم بھرتے
بہت مجھ سے دور ہیں وہ میرے دل میں بس رہے ہیں
بھلا پیار کے بنا ہم انہیں یاد کیسے کرتے
اوصاف کے لہو میں اشعار دوڑتے ہیں
خوشی ہم کو اور ہوتی وہ اگر پسند کرتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






