انہیں آج میں نے دیکھا

Poet: Ausaf Ahmad By: Ausaf Ahmad, Karachi

انہیں آج میں نے دیکھا سر ِ راہ چلتے چلتے
وہ نظر میں بس گئے ہیں نہیں دل سے اب نکلتے

حسیں اور بھی بہت تھے مگر ان کی بات کیا تھی
اگر کچھ نیا نہ ہوتا تو نظر میں وہ نہ بستے

مجھے پہلی ہی نظر میں وہ کر گئے تھے گھائل
اگر جانتے وہ مجھ کو نہ کبھی وہ یوں سنورتے

بڑا ناز تھا انہیں جو حسن و ادا پہ اپنی
کوئی ان کو دیکھتا کیوں جو لہک کے وہ نہ چلتے

ہمیں قرب کی تمنا اسی پیار کے سبب تھی
جو تڑپ نہ ہوتی دل میں وہ ہمیں نہ زیر کرتے

نا مہرباں تھی قسمت جو مل گئے وہ مجھ کو
نہ ان کو دیکھا ہوتا نہ آج ان پہ مرتے

چلے تیر دل پہ میرے اسی بے حسی کے مارے
اگر التفات کرتے مرے دل کے زخم بھرتے

بہت مجھ سے دور ہیں وہ میرے دل میں بس رہے ہیں
بھلا پیار کے بنا ہم انہیں یاد کیسے کرتے

اوصاف کے لہو میں اشعار دوڑتے ہیں
خوشی ہم کو اور ہوتی وہ اگر پسند کرتے

Rate it:
Views: 586
14 Dec, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL