اٹھتا ہے جنازوں پہ جنازہ مرے آگے
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAساحل تھا بہت دور پے در یا مرے آگے
نخوت سے بھرا پِھرتا تھا قطرہ مرے آگے
رشتوں کے تعلق کو بھی مجروح کیا ہے
دیواروں کی صورت میں ہے سیما مرے آگے
نکلا جو ارادہ لئے ، رسوائی کا میری
کرڈالا اسے رب نے ہی رسوا مرے آگے
ہاں دوستی جب سے مری جگنو سے ہوئی ہے
ظلمت ہے بہت پیچھے ، اجالا مرے آگے
جب سے مرے اللہ نے دی فقر کی دولت
خود کاسہ لئے آگئی دنیا مرے آگے
مانا کہ یہ دنیا بھی مکافات عمل ہے
اک دن جو کیا ، سامنے آیا مرے آگے
جب یاد کے افلاک پہ تاروں کی کمی تھی
بنتا گیا ہر اشک ستارا مرے آگے
میں جیسے تماشائی بنا دیکھ رہا ہوں
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک حرف بھی میرا نہیں مولا کا دیا ہے
تم لاکھ کہو اس کو صحیفہ مرے آگے
بستی ہے کہاں یہ تو کوئی گورکدہ ہے
اٹھتا ہے جنازوں پہ جنازہ مرے آگے
پُر پیچ سی راہوں نے ہی بھٹکا دیا مفتی
حالانکہ تھا اک سیدھا سا رستہ مرے اآگے
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ






