رب کی ازاں لگتا ہے
Poet: AbuAbdul By: Jamshed, Dubaiبڑا دشوار لگتا ہے
مکمل ہوتے ہوتے ہی
ادھورا پھر سے رہ جانا
کسی کا ہمسفر ہو کر
اکیلے واپسی آنا
کسی کی یاد بن جانا
کسی کا آنسو ہو جانا
واقعی دشوار لگتا ہے
مگر کسی کے چھوڑ جانے سے
یا واپس لوٹ آنے سے
کسی کو کیا فرق پڑنا
تعلق چھوٹ جانے سے
نقصاں خود کا ہی ہوتا ہے
تلخ ماضی میں رہنے سے
اس لئے
چلو اب بند کرو رونا
اور آنسو پونچھ کر آؤ
کرو سوچوں پر قابو تم
ذرا سا مسکراؤ تو
غم سے باہر آنے کا
پہلا قدم اٹھاؤ تو
خود کی ہمت جگاؤ تو
کیوں کہ
زندگی خوبصورت ہے
اسے یوں ضایع نہیں کرتے
اپنے کمزور ماضی پر
خود کو رلایا نہیں کرتے
اپنی خود کی صلاحیتوں کا
تباہ کن صفایا نہیں کرتے
اور پھر
جو خود کو بدل لیتے ہیں
ذرا سا منفرد ہو کر
پھر خدا بھی تھام لیتا ہے
پیارا انعام دیتا ہے
پاکیزہ رشتے کی صورت
ایک مخلص انسان دیتا ہے
جو تمکو
خود کا نام دیتا ہے
تم کو خاص رکھتا ہے
اور اپنی جان دیتا ہے
اس کے ساتھ تعلق میں
کچھ بھی دشوار نہیں لگتا
کہ پھر سب آسان لگتا ہے
رب کی ازاں لگتا ہے.
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






