دیکھے ہیں حکومت کے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiدیکھے ہیں حکومت کے تو دستور نرالے
ہر چیز ہے مہنگی مریں گے لوگ بچارے
سبزی یہ ٹماٹر نہیں دال بھی سستی
مہنگائی میں لوگوں نے کشکول اٹھالے
مخلص نہیں اب دوست رہے حال برا ہے
اب ملتے نہیں ہیں کہیں چائے کے پیالے
احساس دلایا ہے یقیں ہو گیا پختہ
ممکن ہو مرے ساتھ چلے وقت گزارے
کوئی نہیں ہے حال غریبوں کا بچالو
غربت ہے بہت بھوک سے مرجائیں گے سارے
مزدور کماتے ہیں جو پورا نہیں ہوتا
اب ہوتے نہیں گھر میں غریبوں کے اجالے
غربت نے یہ شہزاد مرا حال کیا ہے
جب کی ہے مسافت تو پڑے پاؤِں میں چھالے
More Love / Romantic Poetry






