نکالو صدقہ دو خیرات
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنکالو صدقہ دو خیرات وقت نازک ہے
گزارو مت کہیں پر رات وقت نازک ہے
نہیں رہے گی کروفر بھول جاؤ نہج
ملاؤ مت کسی سے ہاتھ وقت نازک ہے
خلوص پیار محبت نہیں سمجھتے لوگ
نہ پیش اب کرو خدمات وقت نازک ہے
سنبھال کر ذرا اپنے رکھو قدم صاحب
بہت ہیں اب برے حالات وقت نازک ہے
بہت ہے دھند نہیں آ سکوں گا سردمی میں
نہیں ہے ملنا جمعرات وقت نازک ہے
رقیب اپنے بہت بن گئے ہیں مت آنا
نہیں ہے کرنی ملاقات وقت نازک ہے
نہیں ہیں لوگ زیادہ پہنچ ہی جائے گا
غریب کی ہے یہ بارات وقت نازک ہے
چلے ہی جاؤ لنڈے مال آیا ہے نیا اب
ہے دھند کی تو شروعات وقت نازک ہے
کہا ہے یار نے شہزاد آؤ ملنے تم
خوشی کے آئے ہیں لمحات وقت نازک ہے
More Love / Romantic Poetry






