بھرا پڑا ھے دل کا خزانہ لوٹ لے
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK بھرا پڑا ھے دل کا خزانہ لوٹ لے
پھر نہ چلے گا کوئی بہانہ لوٹ لے
کس کو کیا معلوم کس کا حصہ ھے۔۔۔
دیکھ ! سب ھے جانا انجانا لوٹ لے۔۔۔
چھوڑ فکر دنیا کی بس تو اپنے پرواہ کر۔۔۔
محبت برس رہی ھے جلد آ نا لوٹ لے۔۔۔
مانا کہ مشابہہ رکھتا ھے صدقے کے جیسا۔۔۔
مگر دیوانہ بانٹ رھا ھے دیوانہ لوٹ لے۔۔۔
کوئی شمع الفت سے نظریں چرائے کیوں کر؟
پروانہ!!! رقص بسمل اسد والہانا لوٹ لے۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






