یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی
Poet: عابد عمر By: مصدق رفیق, Karachiیہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی
یہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کی
چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں
وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی
شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر
مری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی
ابھی نہ انگلی اٹھا مجھ پہ تھوڑی مہلت دے
تمیز سیکھ رہا ہوں بڑوں میں بیٹھنے کی
مجھے بدل کے کوئی اور ہی بنا دیا ہے
کہ انتہا ہے یہ صورت گروں میں بیٹھنے کی
دکھا رہے ہیں تواتر سے خامیاں میری
بھگت رہا ہوں سزا آئنوں میں بیٹھنے کی
نہیں مجال کسی کی کہ منتشر کر دے
بنا چکے ہیں جو عادت صفوں میں بیٹھنے کی
خزانے لٹتے رہیں گے یہ خالی ہونے تک
اجاڑ دے گی یہ عادت گھروں میں بیٹھنے کی
خدا عطا کرے عہدہ بڑا غریب کو اور
بدل سکے نہ وہ خو نوکروں میں بیٹھنے کی
خوشامدی نہیں رکھتا ہے اپنے کام سے کام
تو کیا پڑی ہے تجھے افسروں میں بیٹھنے کی
یہ دل اسکین کرانا بہت ضروری ہے
کہ اطلاع ہے ترے دھڑکنوں میں بیٹھنے کی
حیات سوئے عدم لے کے جا رہی ہیں عمرؔ
جو عادتیں ہیں گئے موسموں میں بیٹھنے کی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






