بوجھ تو آخر بوجھ ہی ہے نا
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiبوجھ تو آخر بوجھ ہی ہے نا
جسم اور اشیاﺀ ہی تو نہیں بس
بھاری ساماں،
جس کوخود ہی ڈھوۓ جائیں
کیوں یہ ساماں غیر اٹھائیں
خواہش
لفظ
احساس
اور سپنے
طلب خوشی کی
مانگ سکوں کی
شے کی صورت ہوجاتی ہیں
بن جاتی ہیں بھاری پتھر
بس اک زحمت ہوجاتی ہیں
یہ سارے تودے، چٹانیں
آخر کیوں کوئ اور اٹھاۓ
اپنی روح پہ لادے جائیں
بوجھ تو آخر بوجھ ہی ہے نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






