پیار حو صلہ دیتا ھے تم گھبرانہ چھوڑ دو

Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK

 پیار کرتے ہو اگر تو پھرشرمانا چھوڑ دو
پیار حو صلہ دیتا ھے تم گھبرانہ چھوڑ دو

وہ کہ جس محفل میں ذکر یار نہ ہو
بہتر ھے اس محفل میں آنا جانا چھوڑ دو

صاف کہہ دو اگر اعتبار نہین تم کو۔۔۔
بد گمانی سی یار صورت بنانا چھوڑ دو۔۔۔

کیوں کرتے فھرتے ہو دعوے محبت کے؟
پیار کوئی جاگیر نہیں قبضہ جمانا چھوڑ دو۔۔۔

یا تو اقرار الفت کر لو ہم سے آج۔۔۔
یا تو پھر بے وقوف ہمیں بنانا چھوڑ دو۔

نہیں آ نا نہ آئو یار تمہاری مرضی ھے۔۔۔
مگر کسی کو انتظار میں بٹھانا چھوڑ دو۔۔۔

خوب جانتے ہیں یار ہم حیثیت تیری۔۔۔
اب ہمارا یار تم منہ کھلوانا چھوڑ دو۔۔۔

وہ کہ جس حسن پر ناز ھے تم کو آ ج۔۔۔
ڈھل جائے گا ایک دن اترانا چھوڑ دو۔۔۔۔

کیوں ہمارے دل کے ساتھ کھیلتے ہو اپنے ؟
گر محبت کرتے نہیں تو پھر جلانا چھوڑ دو۔۔۔
 

Rate it:
Views: 541
06 Jul, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL