بیاد غالب
Poet: LIYAQAT ALI ASIM By: JAVED MEHMOOD, FUJAIRHڈرتا ہوں اپنے آپ سے وحشت نہیں مجھے
ایسا نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے
میرا بدن ہے خاک پہ کھینچوں کہ آگ میں
تم جاؤ تم سے کوئی شکایت نہیں مجھے
اک خوش بدن کو چھو کے پریزاد کر دیا
اب اختلاف و وہم وحقیقت نہیں مجھے
تنقید کے لیے نہیں لکھی یہ داستاں
اصلاح حرف کن کی ضرورت نہیں مجھے
آگے کسی کے ہاتھ پساروں میں کس طرح
دامن سمیٹھنے سے ہی فرصت نہیں مجھے
محسوس ہو رہی ہیے تمھاری کمی بہت
دنیا سے ورنہ کوئی شکایت نہیں مجھے
عاصم میں عشق پیشہ قبیلے کا فرد ہوں
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






