بے نشان راستے، نا معلوم سفر
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreبے نشان راستوں پر
نا معلوم سفر پہ
دکھتے پاؤں اور بوجھل دل سے
چل پڑا ہوں اک بار پھر سے
اس سفر میں ہمراہی میرے
سارے دکھ اور سارے درد
میں اکیلا بے رہنما
کس سے پوچھوں میں راستہ
اور بتائے بھی کون بھلا
کہ خود منزل کا نہیں پتا
میں کب سے چلا ہوں کب تک چلوں گا
کچھ یاد نہیں نہ ہے خبر
کئی بار تھک کے میں بیٹھ گیا
پاؤں چھالوں سے اٹ گئے
سانسیں بھی پھر ٹوٹنے لگیں
مجھے لگا کہ اب اٹھ نہ سکوں گا
اس سے آگے چل نہ سکوں گا
میں خود کو حوصلہ دینے لگا
کہ ابھی تو جفاؤں کا آغاز ہوا ہے
ابھی سے تھک کے بیٹھ گئے
ابھی تو سفر کٹھن پڑا ہے
ابھی سے حوصلہ توڑ دیا ہے
ابھی تو طوفان آیا نہیں ہے
ابھی سے سانسیں ٹوٹ گئی ہیں
چلو اٹھو سنبھالو خود کو
ٹوٹتی سانسوں کو پھر سے جوڑو
چلو بڑھو اور بڑھتے جاؤ
میں اٹھ پڑا اور یوں لگا
جیسے ساحل سے دھکیل دے کوئی
ابھرتی لہروں میں پھینک دے کوئی
بپھرتی لہریں لے کے چلیں
کبھی چٹانوں میں کبھی بھنور میں
میں نے چاہا کہ لوٹ جاؤں
پھر سے اسی ساحل پہ جہاں سے
گٹھڑی دکھوں کی باندھ کے چلا تھا
اس گٹھڑی کو میں پھینک آؤں
کہ بوجھہ بڑا ہے سفر کڑا ہے
مگر میں ایسا کر نہ پاؤں
کہ اس ساحل پہ جانے کے سارے راستے
کٹ چکے یا ڈوب چلے ہیں
میں خواہشوں کا گلا دبا کے
خود کو لہروں کے سپرد کر کے
چل پڑا ہوں نا معلوم سفر پہ
بے نشان راستوں سے گزرتا ہوا
نجانے لہریں پار لگا دیں
یا بھنور میں پہنچا کے لوٹ آئیں
اس کے بعد کیا ہوگا
یہ سوچنا تو عبث ہے زلفی
کہ لہروں پہ مجھ کو بھروسہ نہیں ہے
جو بھی ہے بس ایک یقیں ہے
کہ لوٹ آنے کا امکاں نہیں ہے
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں






