تم لفظوں کے کھیل رچاتے ہو

Poet: Muskan Khan By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, RAWALPINDI

تم لفظوں کے کھیل رچاتے ہو
تم ہنستے ہو تم گاتے ہو

کچھ باتیں بیتے لمحوں کی
کبھی تنہائی میں جب دہراتے ہو

وہ لفظ جو ٹوٹے رہ گئے
وہ ملا کے جوڑتے ہو

کچھ لوگ تھے کانچ کے دل والے
تم ان کے قصے سناتے ہو

یوں بنا کہ یادوں کا تاج محل
تم مزاج بدلتے جاتے ہو

کبھی ہنستے ہو کبھی روتے ہو
کبھی بھولنے کی خواہش کرتے ہو

وہ لمحے جن کو تم جی چکے
ان لمحوں کی نظر اتارتے ہو

وہ لمحے جو تم کو جی چکے
تم ان سے نظریں چراتے ہو

یوں آنکھ مچولی کھیل کر
آنسوؤں سے مسکراتے ہو

اس بہتے پانی سی دنیا میں
جب ماضی کو سوچتے جاتے ہو

وہ لوگ جو سب کچھ کھو گئے
یوں ان سے وفا نبھاتے ہو

اس وفا سے عاری دنیا میں
اس وفا کی فطرت کو دیکھا کر

تم دل کو ہمارے بھاتے ہو
تم سب سے نرالے لگتے ہو

تم ہم کو پیارے لگتے ہو
تم سب سے پیارے لگتےہو

Rate it:
Views: 572
02 Jun, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL