تو نے سمجھا تھا بچھڑ کے تجھ سے مر جاؤں گا میں

Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkot

تو نے سمجھا تھا بچھڑ کے تجھ سے مر جاؤں گا میں
تو نہیں جو سنگ میرے تو کدھر جاؤں گا میں
تو مجھے گر چھوڑ دے گی تو بکھر جاؤں گا میں
تو جو دریا میں کہے گی تو اتر جاؤں گا میں
میرے دل کو توڑ دالا ہے ارے او بے وفا
اب نہیں میں مانگتا در سے کسی کے بھی شفا
اب جو کہتے ہو یہ لوگوں سے کہ میں ہوں بے وفا
خود بتا کہ بے وفائی کی ملے کس کو سزا
تو نہیں گر جانتی کس کو پتا ہے یہ بتا
فیصلا تیرا جو ہو گا ہو گی میری وہ رضا
جس کو بھی چاہا ہے میں نے وہ ہی نکلا بے وفا
گر یہی انجام الفت ہے تو پھر کیسی سزا
ناخدا تھا عشق کا تو پھر گیا کیوں چھوڑ کے
سارے وعدے سارے ناطے سارے رشتے توڑ کے
دل مرا کیوں توڑ ڈالا اپنے ہاتھوں جوڑ کے
ہاں بہت پچھتایا ہو گا مجھ سے منہ وہ موڑ کے
کچھ ہوس دل میں نہ تھی سا ئل کے تیرے واسطے
پر تجھے بہتر لگے تھے غیر کے ہی راست

Rate it:
Views: 1201
29 Oct, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL