تمہیں اُس شب بہت سوچا
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodhaتمہیں اُس شب بہت سوچا
کہ جب بادل بھی چھائے تھے
بڑی ہی تیز بارش تھی
ہوا بارش کے قطروں سے
بڑی اَٹھکیاں کر کے
میرے کمرے کی کھڑی سی
ٹکرا کر بہت ہی شور کرتی تھی
چمکتی بجلیاں بھی تو
اُسی کھڑی کے رستے سے
ذرا سی دیر رُک رُک کر
مجھے ہی جانکتیں تھیں بس
ہوا کے تیز جھونکے بھی چکے سے
دبے پاؤں ہی آتے تھے
میری ٹیبل پہ رکھے
کاغذوں کو بھی اُڑاتےتھے
اُنہیں اراوق پہ لکھی
تری نظمیں بھی تھیں شاید
جنہیں خون ِجگر سے لکھ کر
ابھی ٹیبل پہ رکھا تھا
ہوا سے اُڑ گئے ایسے
وہ سارے لفظ بھی جیسے
ساحل کی ریت پر لکھ کر
لکھا جیسے نہیں ہوتا
کوئی زندگی میں مل کر بھی
ملا جیسے نہیں ہوتا
محبت خواب تھی سوچا
یا اک سراب تھی سوچا
گئے بادل گئی بارش
ہوا بھی تھم گئی لیکن
تمہیں اُس شب بہت سوچا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






