کاغز پر کاٹ کاٹ کر اپنی عمر  گھٹا دی ھے

Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف , Mississauga

اپنی پرچھائیوں کے گھیروں سےایک بزم سجا دی ھے
اور ان کے لئیے راستے میں ایک شمع جلا دی ھے

راھوں کو تکتے تکتے آنکھیں پتھرا گئی ھیں
انہیں آنکھوں کے پتھروں سے انکی مورت بنا دی ھے

ھؤاوں سے پوچھتیں ھیں کوئی پیغام لا ئے ھو
صبا کو رو کے رکھیں ایک دیوار بنا دی ھے

جگنوں ھیں بے قرار ان کو لانے کے لئیے
روشنیوں کی معزرت سے چھٹی کرا دی ھے

شاید وہ ھمیں اپنے قابل سمجھ سکیں
کاغز پر کاٹ کاٹ کر اپنی عمر گھٹا دی ھے

وہ آ کر اتنے قریب سے لوٹ کر چلے گئے
میر ے تو جزبوؤں کی ھنسی اڑا دی ھے

بچڑ کر وہ گیا ھمارہ کیا قصور
تل تل مر ے جئیے خود کو سزا دی ھے

کاغز کی کشتی ڈو بی غم منا رھے ھیں
جیون کی پختہ کشتی خود سے جلا دی ھے

اس دنیا میں اب عارف کچھ نہ رھا ھے باقی
اس میلے سے ھم نے اپنی دکان بڑھا دی ھے

 

Rate it:
Views: 580
22 May, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL