جب قصیدہ ترا لوگوں کو سُنا دیتا ہوں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreجب قصیدہ ترا لوگوں کو سُنا دیتا ہوں
کتنی آنکھوں میں ترے خواب سجا دیتا ہوں
شاعری ہے تو سہی خونِ جگر کا سودا
تری تصویر تو لوگوں کو دِکھا دیتا ہوں
لے کے خوشبو تری یادوں کے حسیں پھولوں کی
اپنی سانسوں کے تسلسل میں بسا دیتا ہوں
ترے ماتھےکے اُجالوں کی چمک سے پیارے
اپنی قسمت کے ستاروں کو جِلا دیتا ہوں
غنچہءِ دل کے چٹکنے کی صدا سے جاناں
کتنے سوئے ہوئے جذبوں کو جگا دیتا ہوں
اِک جہنّم سا دہکتا ہے بدن میں میرے
جب بھی جذبات کو سینے میں دبا دیتا ہوں
خون ہوتا ہے مگر کتنی تمناؤں کا
ترے افسانے کو جب رنگ نیا دیتا ہوں
دیکھتا ہوں جو کبھی خواب میں چہرہ تیرا
اپنے ہاتھوں سے دیئے غم کے بجھا دیتا ہوں
اپنی ہستی کو تری راہ میں بچھا کر اے دوست
عشق والوں کو میں منزل کا پتہ دیتا ہوں
شاید آ جائے پلٹ کر کبھی ساتھی میرا
دیپ اشکوں کے سرِ شام جلا دیتا ہوں
جب بھی گزرا ہے گماں تیرہ شبی کا یارو
لو میں زخموں کے چراغوں کی بڑھا دیتا ہوں
تلخ ہوتی ہے بہت میری بھی مے اے ساقی
غمِ دوراں غمِ جاناں میں ملا دیتا ہوں
شام ہوتے ہی میں مینائے غزل کی گردن
تری یادوں کی صراحی پہ جھکا دیتا ہوں
غم کی تلخی بھی ہے نایاب مگر اے لوگو
ذوق والوں کو مگر مفت پِلا دیتا ہوں
ایسے لگتا ہے کہ جنّت مرے قدموں میں ہے
جب میں نظریں ترے قدموں پہ جھکا دیتا ہوں
ایک دیوارِ انا بیچ میں حائل ہی رہی
وہ گراتے ہیں تو میں اس کو اُٹھا دیتا ہوں
ایسے لگتا ہے کہ جنّت کا مکیں ہوں جاناں
جب یہ آنکھیں تری راہوں میں بچھا دیتا ہوں
جب بھی لکھا ہے محبّت میں قصیدہ تیرا
ایک ہلچل سی دلوں میں میں مچا دیتا ہوں
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






