حسن کیا ہے ؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillحسن امکان کے جلووں کا لا مکان چمن
حسن تخلیق کائنات کی سربستہ کرن
حسن فطرت کے ہر اک راز کی روشن دلیل
حسن تعبیر کن فکاں ۔ فروغ جبرائیل
حسن کے آگے ملائک تمام سجدہ کناں
حسن کے پیچھے چلا کاروان کار جہاں
حسن ذوق کلیم حسن راہ آب نیل
حسن صدق خلیل حسن دم اسمعیل
حسن یوسف میں نہاں خوشنمائی پارسائی
حسن یعقوب کی لوٹائی گئی بینائی
حسن عیسی کا زہد ۔ نوح کا عرشوں پہ مقام
حسن وہ ذات کہ جس پر سبھی درود و سلام
حسن کعبے سے پھوٹتی ہوئی اذان بلال
حسن عثمان کی حیا حسن عمر کا جلال
حسن صدیق کی عظمت حسن پیغام علی
حسن شبیر کے لہو سے لکھا حرف جلی
حسن پھولوں کی مہکتی ہوئی مدھر خوشبو
حسن قوس قزح کا رنگ سجاتا جادو
حسن بچے کو تکتی ماں کی مقدس نظریں
حسن بچے کی توتلی زبان میں باتیں
حسن جھرنوں کا مچلتا ہوا تازہ پانی
حسن مہکی ہوئی شاموں میں رات کی رانی
حسن دریا میں تیرتی ہوئی ننھی مچھلی
حسن پھولوں کو چوم چوم کے گاتی تتلی
حسن مشرق سے نکلتی ہوئی پر دم کرنیں
حسن مغرب میں مہکتی ہوئی دلکش شامیں
حسن بارش میں نہاتی ہوئی شاخوں کا شور
حسن جنگل میں ناچتا ہوا مخمور مور
حسن نگاہ کی پاکیزگی زم زم کا جام
حسن تقدیس کے اعلٰی ترین مقام کا نام
حسن فطرت کی اک بے ساختہ و شوخ ادا
حسن معصومیت کا درس حسن نام حیا
حسن بے نام و نشاں ہو اگر وفا نہ رہے
حسن ہے حسن کی تذلیل گر حیا نہ رہے
حسن خیال کی ہر تازگی کو کہتے ہیں
حسن انداز کی بے ساختگی کو کہتے ہیں
حسن چہرے کی نمائش کو تو نہیں کہتے
حسن کردار کی پاکیزگی کو کہتے ہیں
عارضی روپ اک زیاں کے سوا کچھ بھی نہیں
حسن ابدان اگ گماں کے سوا کچھ بھی نہیں
حسن نے توڑا دم ہست کا بے رنگ جمود
حسن مخلوق کی عظمت حسن دامان معبود
حسن کی بارگاہ میں کائنات سر بسجود
اور ہم ڈھونڈتے ہیں حسن کی جسموں میں نمود
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






